مرکزی مواد پر جائیں
ہفتہ، 24 اکتوبر 2026

روزنامہ فرض کراچی

کراچی، پاکستان
اہم خبریں
پاکستان

اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 21.49 ارب ڈالر تک پہنچ گئے

کراچی، 24 اکتوبر 2026ء — اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر میں گزشتہ ہفتے ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مرکزی بینک کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 16 اکتوبر 2026ء کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک کے ذخائر 1 کروڑ 90 لاکھ ڈالر بڑھ کر 21.489 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔

یہ مرکزی بینک کے ذخائر میں مسلسل دوسرا ہفتہ وار اضافہ ہے؛ اس سے قبل 9 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں بھی ذخائر میں 1 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا تھا اور وہ 21.47 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچے تھے۔

اسی ہفتے کے دوران پاکستان کے مجموعی مائع زرمبادلہ ذخائر 26.83 ارب ڈالر رہے، جو پچھلے ہفتے کے 26.86 ارب ڈالر سے تقریباً 3 کروڑ ڈالر کم ہیں۔ مجموعی ذخائر میں کمی کی وجہ کمرشل بینکوں کے پاس موجود ذخائر میں آنے والی کمی ہے، جو تقریباً 4 کروڑ 90 لاکھ ڈالر گھٹ کر 5.34 ارب ڈالر رہ گئے۔ یوں مرکزی بینک کے ذخائر میں ہونے والا اضافہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں کمی کی تلافی نہ کر سکا۔

زرمبادلہ کے ذخائر کسی بھی ملک کے مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی کرنسی کے وہ اثاثے ہوتے ہیں جنہیں بیرونی ادائیگیوں، درآمدات کی ادائیگی اور کرنسی کے استحکام کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان ذخائر کی سطح کو معیشت کی بیرونی ادائیگی کی صلاحیت کا ایک اہم اشارہ سمجھا جاتا ہے، اس لیے ہر ہفتے جاری ہونے والے اعداد و شمار پر کاروباری حلقوں اور معاشی ماہرین کی گہری نظر رہتی ہے۔

معاشی ماہرین کے نزدیک ذخائر کی اصل تصویر کسی ایک ہفتے کے اعداد سے نہیں بلکہ مسلسل کئی ہفتوں کے رجحان سے سامنے آتی ہے۔ ہفتہ وار اتار چڑھاؤ معمول کی بات ہے، کیونکہ یہ ذخائر بیرونی آمد و ادائیگی کے بہاؤ کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ تاہم مرکزی بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافے کا رجحان برقرار رہنا بیرونی ادائیگیوں کی پوزیشن کے لیے مثبت اشارہ سمجھا جاتا ہے۔ اسٹیٹ بینک ہر ہفتے ذخائر کے اعداد و شمار جاری کرتا ہے، جن میں مرکزی بینک اور کمرشل بینکوں کے ذخائر کی الگ الگ تفصیل دی جاتی ہے۔

ذرائع: ڈان، ایکسپریس ٹریبیون، بزنس ریکارڈر