اسلام آباد، 24 اکتوبر 2026ء — ملک میں قلیل مدتی مہنگائی میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 22 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں حساس قیمتوں کا اشاریہ (ایس پی آئی) سالانہ بنیادوں پر 11.85 فیصد تک پہنچ گیا، جبکہ ایک ہفتہ قبل یہ شرح 11.38 فیصد تھی۔ ہفتہ وار بنیادوں پر اشاریے میں 0.65 فیصد اضافہ ہوا۔
ایس پی آئی ملک کے 17 شہروں کی 50 منڈیوں سے 51 ضروری اشیا کی قیمتوں کی بنیاد پر تیار کیا جاتا ہے اور اس سے عام گھرانوں پر پڑنے والے فوری دباؤ کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ ہفتے میں 19 اشیا کی قیمتیں بڑھیں، 12 کی کم ہوئیں اور 20 اشیا کی قیمتیں برقرار رہیں۔
ہفتے کے دوران سب سے زیادہ اضافہ مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمت میں ہوا جو 22.44 فیصد مہنگی ہوئی، جبکہ چکن 12.20 فیصد اور پیاز 4.19 فیصد مہنگے ہوئے۔ اس کے علاوہ شرٹنگ 1.86 فیصد، سادہ روٹی 1.66 فیصد اور گندم کا آٹا 1.00 فیصد مہنگا ہوا۔ لہسن، جلانے کی لکڑی، جارجٹ، بناسپتی گھی، گائے کا گوشت اور ماش کی دال کی قیمتوں میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔
دوسری جانب بعض اشیا سستی بھی ہوئیں۔ ٹماٹر کی قیمت میں 21.99 فیصد کمی آئی، جبکہ پٹرول 3.63 فیصد، کیلا 2.42 فیصد، ڈیزل 1.68 فیصد اور آلو 1.38 فیصد سستے ہوئے۔ انڈے، خشک دودھ، ٹوٹا باسمتی چاول اور چینی کی قیمتوں میں بھی معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔
سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی تصویر زیادہ تشویشناک ہے۔ ایل پی جی کی قیمت ایک سال میں 107.12 فیصد، پیاز 72.81 فیصد، بجلی کے پہلے سلیب کے نرخ 58.59 فیصد، پٹرول 44.17 فیصد، ڈیزل 41.56 فیصد، چکن 38.99 فیصد اور گندم کا آٹا 36.49 فیصد مہنگا ہوا۔ مرچ پاؤڈر، مٹن، گائے کا گوشت، سادہ روٹی اور تیار چائے بھی سال بھر میں مہنگی ہوئیں۔ اس کے برعکس ٹماٹر سالانہ بنیادوں پر 71.72 فیصد، آلو 40.75 فیصد اور چینی 25 فیصد سستی ہوئی۔
قلیل مدتی مہنگائی کئی ہفتوں سے دوہرے ہندسے میں برقرار ہے۔ ماہرین کے مطابق توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت اشیا کی قیمتوں میں منتقل ہو رہی ہے، جس سے گھریلو بجٹ پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
دریں اثنا وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آج لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عالمی عدم استحکام اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت موسم سرما کی توانائی کی ضروریات کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے اور خام تیل کی فراہمی کی صورتحال اطمینان بخش ہے۔
ذرائع: ڈان، پی کے ریونیو (پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار)، 24 نیوز، آج نیوز

