مرکزی مواد پر جائیں
اتوار، 25 اکتوبر 2026

روزنامہ فرض کراچی

کراچی، پاکستان
اہم خبریں
کراچی

کراچی کے میئر نے تجاوزات کے خاتمے کے لیے محکمے کو 15 دن کی مہلت دے دی

کراچی، 25 اکتوبر 2026ء — کراچی کے میئر بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے محکمہ انسداد تجاوزات کو شہر کی بڑی سڑکوں، گلیوں، فٹ پاتھوں اور عوامی مقامات سے تجاوزات ہٹانے کے لیے 15 دن کی سخت مہلت دے دی ہے۔ میئر نے واضح کیا ہے کہ اس مدت میں ٹھوس اور نمایاں نتائج سامنے آنے چاہئیں، ورنہ ذمہ دار افسران کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔

میئر نے محکمے کے افسران اور عملے کے ایک ہنگامی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے تجاوزات کے معاملے پر شہریوں کی بڑھتی ہوئی شکایات کا نوٹس لیا۔ اجلاس میں انہوں نے محکمے کی کارکردگی پر شدید ناراضی کا اظہار کیا اور کہا کہ زمینی صورتحال اس معیار کی عکاسی نہیں کرتی جس کی محکمے سے توقع کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی مقامات پر قبضے اور رکاوٹوں کے باعث شہریوں کو روزمرہ کی زندگی میں مشکلات کا سامنا ہے، اور اس صورتحال کو مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

میئر کی ہدایت کے مطابق محکمہ انسداد تجاوزات شہر بھر میں ایک جامع مہم چلائے گا جس میں بڑی سڑکوں، تجارتی علاقوں، مصروف شاہراہوں، گلیوں اور فٹ پاتھوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ محکمے کو ایک واضح عملی منصوبہ تیار کرنا ہوگا، مؤثر نفاذ کو یقینی بنانا ہوگا اور مقررہ 15 دن کے اندر قابل پیمائش نتائج دینے ہوں گے۔ میئر نے زور دیا کہ کارروائی صرف کاغذوں یا رپورٹوں تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اس کے اثرات شہر کی سڑکوں پر عملی طور پر نظر آنے چاہئیں۔

میئر نے خبردار کیا ہے کہ مقررہ مدت میں ٹھوس نتائج نہ دینے والے افسران کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی ہوگی جس میں ملازمت سے برطرفی بھی شامل ہو سکتی ہے، جبکہ قواعد کے تحت ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن رولز کے مطابق بھی کارروائی کی جا سکے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ غفلت اور عدم کارکردگی کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا، اور جو افسر اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرے گا اسے اس کے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔

اجلاس سے خطاب میں میئر نے کہا کہ شہر میں ترقیاتی کاموں پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، لیکن اگر سڑکیں، فٹ پاتھ اور عوامی مقامات تجاوزات کی زد میں رہے تو اس سرمایہ کاری کا پورا فائدہ شہریوں تک نہیں پہنچ سکے گا۔ ان کے بقول سڑکیں، گلیاں اور فٹ پاتھ شہریوں کی ملکیت ہیں اور وہ عوامی آمد و رفت اور سہولت کے لیے ہیں، نہ کہ تجارتی سرگرمیوں یا ذاتی کاروباری مفادات کے لیے ان پر قبضہ کرنے کے لیے۔ شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ بغیر کسی رکاوٹ کے سڑکوں اور فٹ پاتھوں کو استعمال کر سکیں۔

میئر نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ مہم کے دوران خالی کرائے گئے علاقوں کو دوبارہ تجاوزات سے پاک رکھا جائے۔ دوبارہ تجاوزات قائم کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی تاکہ ایک بار صاف ہونے والا علاقہ دوبارہ قبضے کی زد میں نہ آ سکے۔ اس مقصد کے لیے محکمے کو نگرانی کا نظام بہتر بنانا ہوگا اور صاف شدہ علاقوں کو عوام کے لیے قابل رسائی رکھنا ہوگا۔

تجاوزات کا مسئلہ کراچی کے شہریوں کے لیے کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر قبضے سے پیدل چلنے والوں کی نقل و حرکت متاثر ہوتی ہے، ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور تجارتی علاقوں میں بھی بے ترتیبی پھیلتی ہے۔ میئر کی نئی مہلت اسی پس منظر میں سامنے آئی ہے، اور اب شہریوں کی نظریں اس بات پر ہوں گی کہ آئندہ 15 دن میں زمین پر کیا تبدیلی نظر آتی ہے۔

ذرائع: ڈان، دی نیوز، بزنس ریکارڈر