مرکزی مواد پر جائیں
اتوار، 25 اکتوبر 2026

روزنامہ فرض کراچی

کراچی، پاکستان
اہم خبریں
پاکستان

وزیراعظم نے 5 لاکھ کروم بکس کی اسکیم کا آغاز کر دیا؛ طلبہ کو میرٹ پر ڈیوائسز ملیں گی

اسلام آباد، 25 اکتوبر 2026ء — وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج اتوار کو اسلام آباد میں وزیراعظم یوتھ کروم بک اسکیم کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت ملک بھر کے پانچ لاکھ طلبہ کو آئندہ دو برس کے دوران کروم بکس فراہم کیے جائیں گے، اور ان ڈیوائسز کی تقسیم صرف میرٹ اور تعلیمی کارکردگی کی بنیاد پر ہوگی۔

افتتاحی تقریب میں وزیراعظم نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے نویں جماعت کے طلبہ اور مدارس کے طلبہ میں ڈیوائسز بھی تقسیم کیں۔ ہر منتخب طالب علم کو کروم بک کے ساتھ انٹرنیٹ کی سہولت کے لیے مائی فائی ڈیوائس اور اسکول بیگ بھی دیا جائے گا، تاکہ وہ گھر بیٹھے آن لائن تعلیم، ای لائبریریوں اور دیگر تعلیمی وسائل سے فائدہ اٹھا سکیں۔

اسکیم میں عام اسکولوں کے ساتھ ساتھ رجسٹرڈ مدارس کے طلبہ بھی شامل ہوں گے۔ وزیراعظم نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ ملک کے نوجوان پاکستان کا اصل سرمایہ ہیں، اور انہیں جدید ٹیکنالوجی فراہم کرنا ریاست کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غربت یا مالی حالات کسی باصلاحیت طالب علم کی اعلیٰ تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے چاہئیں، اور انتخاب صرف قابلیت اور محنت کی بنیاد پر ہوگا۔

وزیراعظم نے ماضی کی اسکیموں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی سابقہ حکومتوں نے دس برس کے دوران میرٹ پر چھ لاکھ لیپ ٹاپ طلبہ میں تقسیم کیے تھے، اور نئی اسکیم اسی سلسلے کی اگلی کڑی ہے۔ ان کے مطابق ان ڈیوائسز سے طلبہ دور دراز علاقوں میں بھی آن لائن کلاسز میں شریک ہو سکیں گے، اپنی ڈیجیٹل مہارتیں بہتر بنا سکیں گے اور روزگار کے مواقع کے لیے خود کو تیار کر سکیں گے۔

تقریب میں وزیراعظم نے ٹوکیو ٹیکنالوجی کیئر فاؤنڈیشن کا بھی شکریہ ادا کیا، جس نے اس اسکیم میں تعاون کیا ہے۔ انہوں نے تعلیمی ڈھانچے کے حوالے سے بتایا کہ اسلام آباد میں دانش اسکول کا افتتاح کیا گیا ہے، جب کہ ملک بھر میں 27 دانش اسکول زیر تعمیر ہیں، جہاں طلبہ کو مفت سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔

حکومت کے مطابق اس اسکیم کا مقصد نوجوانوں کو جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی سے جوڑنا ہے، تاکہ وہ عالمی سطح پر مقابلے کے قابل ہو سکیں۔ اسکیم کے تحت ڈیوائسز کی تقسیم اگلے دو برس میں مرحلہ وار مکمل کی جائے گی۔

ذرائع: دی نیوز، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان، گلف نیوز، شفقنا پاکستان، نکتہ