کراچی، 26 اکتوبر 2026ء — کراچی میں نئے اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں حالیہ ہفتوں میں تیز اضافہ ہوا ہے جس نے عام شہریوں کے لیے نیا فون خریدنا مشکل بنا دیا ہے۔ تمام بڑی کمپنیوں کے فونز کی قیمتوں میں فی سیٹ 15 ہزار سے 30 ہزار روپے تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اور اس اضافے کا سب سے زیادہ اثر ان خریداروں پر پڑا ہے جو کم قیمت والے بجٹ فون خریدتے تھے۔
بجٹ فون سے مراد وہ بنیادی اسمارٹ فون ہے جو روزمرہ کے کاموں کے لیے کافی ہو، یعنی 4 جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج والا فون۔ گزشتہ سال تک ایسا فون تقریباً 20 ہزار روپے میں مل جاتا تھا، لیکن اب اس کی قیمت 30 ہزار روپے سے اوپر چلی گئی ہے۔ کراچی کی مارکیٹوں کے ایک جائزے کے مطابق چند ماہ پہلے 22 ہزار روپے کا فون اب اوسطاً 40 ہزار روپے کے قریب پہنچ گیا ہے، اور کئی دکاندار اسی درجے کے فون کے لیے 35 سے 40 ہزار روپے مانگ رہے ہیں۔
فون کی قیمت میں یہ اضافہ اس لیے بھی اہم ہے کہ آج موبائل فون صرف بات چیت کا ذریعہ نہیں رہا۔ تعلیم، ملازمت، بینکنگ، آن لائن ٹرانسپورٹ، سرکاری خدمات اور خاندان سے رابطہ — یہ سب کام اب اسمارٹ فون سے جڑے ہوئے ہیں۔ جب نیا فون مہنگا ہو جاتا ہے تو طالب علم، ملازمت پیشہ افراد اور کم آمدنی والے خاندان سب سے پہلے متاثر ہوتے ہیں، کیونکہ ان کے لیے فون ایک ضرورت ہے، عیاشی نہیں۔
قیمتوں میں اضافے کے بعد بہت سے خریدار مجبوراً پرانے یا کٹ فونز کی طرف جا رہے ہیں۔ کٹ فون وہ ریفربشڈ سیٹ ہوتے ہیں جو بغیر ریٹیل پیکنگ کے بڑی تعداد میں درآمد کیے جاتے ہیں۔ خریداروں کا کہنا ہے کہ ان فونز کی بھروسے کی سطح نئے فون جیسی نہیں ہوتی، اس لیے یہ مجبوری کا سودا ہے، پسند کا نہیں۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافے سے ان کی فروخت میں نمایاں کمی آئی ہے، اور مسلسل قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور سپلائی کی کمی نے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
قیمتوں میں اضافے کی وجہ کے بارے میں ڈیلرز اور مینوفیکچررز کا موقف ایک دوسرے سے ملتا ہے۔ کراچی الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد رضوان عرفان کا کہنا ہے کہ ٹیکسوں میں کوئی بڑا اضافہ نہیں ہوا جو قیمتوں میں اس قدر اضافے کی وضاحت کر سکے؛ اصل وجہ چپس کی بڑھتی ہوئی قیمت ہے۔ اسی طرح پاکستان موبائل فون مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے میاں عبدالرحمان نے بتایا کہ ریم اور روم کی قیمت اس لیے بڑھ رہی ہے کہ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور ڈیٹا سینٹرز کے لیے میموری کی مانگ تیزی سے بڑھی ہے، جبکہ پیداوار اس رفتار سے نہیں بڑھ سکی۔ ان کے بقول مینوفیکچررز کے لیے یہ بڑھتی ہوئی لاگت برداشت کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، اور یہی لاگت صارف تک پہنچ رہی ہے۔
کچھ صارفین قیمتوں میں اضافے کو ٹیکسوں یا عالمی تجارتی رکاوٹوں سے جوڑتے ہیں، لیکن صنعت کے نمائندوں نے اس کی تردید کی ہے اور چپس کی قیمت کو بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔ یہ فرق اہم ہے، کیونکہ غلط وجہ پر مبنی حل اصل مسئلے کو حل نہیں کرے گا۔
مارکیٹوں میں خریداروں کی کہانیاں بھی یہی تصویر پیش کرتی ہیں۔ صدر موبائل مارکیٹ میں کالج جانے والی بیٹی کے لیے فون خریدنے آئے ایک والد نے بتایا کہ اگست میں 22 سے 23 ہزار روپے کا فون اب 30 ہزار روپے سے اوپر چلا گیا ہے، اور اب ان کے پاس صرف پرانا فون یا سادہ کی پیڈ والا فون لینے کا راستہ بچا ہے۔ ایک خاتون نے بتایا کہ انہیں نیا فون خریدنے کے لیے اپنی بچت خرچ کرنی پڑی، کیونکہ کام کے لیے اچھا فون ان کی مجبوری ہے۔ نارتھ کراچی کی عبداللہ موبائل مارکیٹ میں ایک نوجوان نے بتایا کہ فون چھن جانے کے بعد وہ 25 سے 30 ہزار روپے کے بجٹ میں بھی ایسا فون نہیں ڈھونڈ سکا جس پر روزمرہ کی ضروری ایپس ٹھیک سے چل سکیں۔
متاثرہ صارفین حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ بنیادی اسمارٹ فون عام آدمی کی پہنچ میں رکھنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف حکومت ڈیجیٹل پاکستان کی بات کرتی ہے، اور دوسری طرف وہ آلہ مہنگا ہوتا جا رہا ہے جس کے ذریعے شہری سرکاری ایپس اور ڈیجیٹل خدمات تک پہنچتے ہیں۔ کچھ صارفین نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ حکومت کسی موبائل فون بنانے والی کمپنی سے معاہدہ کر کے سستے بنیادی فون فراہم کرے، تاکہ ڈیجیٹل خدمات تک رسائی صرف ان لوگوں تک محدود نہ رہے جو مہنگے فون خرید سکتے ہیں۔
ذرائع: ڈان، ٹیک جوس

