مرکزی مواد پر جائیں
بدھ، 4 نومبر 2026

روزنامہ فرض کراچی

کراچی، پاکستان
اہم خبریں
پاکستان

حکومت کی نئی ایل پی جی پالیسی، مستحق صارفین کو 300 سے 350 روپے کلو گیس ملے گی

اسلام آباد، 4 نومبر 2026ء — وفاقی حکومت نے ایل پی جی کی نئی پالیسی منظور کر لی ہے جس کے تحت سرکاری کمپنیاں ایک بار پھر بڑی مقدار میں ایل پی جی درآمد کریں گی اور مستحق صارفین کو رعایتی نرخ پر گیس فراہم کی جائے گی۔ پٹرولیم کے وزیر علی پرویز ملک نے منگل کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں پالیسی کے خدوخال بتائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پالیسی کا مقصد مارکیٹ میں مسابقت پیدا کرنا اور رسد کی شدید قلت دور کرنا ہے، جو موسم سرما سے پہلے ہی سنگین صورت اختیار کر چکی ہے۔

وزیر پٹرولیم کے مطابق چار سرکاری اداروں — پاکستان اسٹیٹ آئل، پاکستان ایل این جی لمیٹڈ، سوئی سدرن گیس۔ایل پی جی اور پارکو۔ایل پی جی — کو ایل پی جی کی درآمد کا کام سونپا گیا ہے۔ یہ ادارے حکومت سے حکومت اور کاروبار سے کاروبار کی بنیاد پر خریداری کریں گے، اور وزیر کے مطابق سعودی عرب اور عمان سے سپلائی کی پیشکشیں پہلے ہی موصول ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایل پی جی کو غریب آدمی کا ایندھن کہا جاتا ہے، مگر مغربی سرحدوں پر خلل کے باعث سردیوں سے پہلے ہی اس کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔

پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ بعض علاقوں میں ناجائز منافع خور ایل پی جی 700 سے 800 روپے فی کلو تک فروخت کر رہے ہیں، جبکہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے نومبر کے لیے زیادہ سے زیادہ قیمت 295 روپے فی کلو مقرر کی ہے۔ وزیر نے کہا کہ سعودی کنٹریکٹ پرائس اور موجودہ پریمیم کو دیکھتے ہوئے سرکاری اداروں کی سپلائی شروع ہونے پر مارکیٹ میں قیمت 450 سے 500 روپے فی کلو تک ہو سکتی ہے۔ تاہم نجی درآمد کنندگان اس سے کم نرخ پر سپلائی لا کر مقابلہ کرنے میں آزاد رہیں گے۔

سب سے اہم اعلان مستحق صارفین کے لیے ہے۔ وزیر اعظم کی ہدایت پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے اہلیت کے معیار پر پورا اترنے والے مستحق اور کمزور صارفین کو ایل پی جی 300 سے 350 روپے فی کلو فراہم کی جائے گی۔ یہ رعایت ایک نئے فنڈ کے ذریعے دی جائے گی، جس میں درآمدی قیمت اور مقامی طور پر پیدا ہونے والی ایل پی جی کی نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم کا فرق جمع ہوگا۔ یہاں ایک تلخ حقیقت بھی قابل ذکر ہے کہ رعایتی نرخ بھی اوگرا کے موجودہ مقررہ نرخ 294 روپے 8 پیسے فی کلو سے زیادہ ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی قیمتوں میں اضافے نے سرکاری نرخ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

نئی پالیسی کے تحت بااثر گروہوں کو فائدہ پہنچانے والا کوٹہ نظام ختم کر دیا جائے گا۔ مقامی پیداوار کنندگان اپنی ایل پی جی پانچ اور دس ٹن کی لاٹوں میں شفاف نیلامی کے ذریعے فروخت کریں گے، جس کی نگرانی اوگرا اور پٹرولیم ڈویژن کریں گے۔ سرکاری ادارے سعودی آرامکو کنٹریکٹ پرائس سے منسلک بنیادی قیمت اپنی ویب سائٹس پر شائع کریں گے، اور ماہانہ اوسط درآمدی لاگت بھی ظاہر کی جائے گی۔ اس نئے نظام میں اوگرا مقامی اور درآمدی ایل پی جی کی قیمتوں کے نوٹیفکیشن جاری نہیں کرے گا۔ مسابقتی کمیشن، پٹرولیم سیفٹی ادارے اور اوگرا کو ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر ملی بھگت، معیار اور قیمتوں کی نگرانی کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

اسی خبر کے ساتھ بجلی کے صارفین کے لیے بھی ایک تشویشناک اشارہ سامنے آیا ہے۔ پاور ڈویژن نے جنوری تا دسمبر 2027 کے لیے بجلی کی خریداری کی قیمت میں تقریباً 2 سے 4 روپے فی یونٹ اضافے کا تخمینہ پیش کیا ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت میں بنیادی منظرنامے کے تحت خریداری کی قیمت 27 روپے 31 پیسے فی یونٹ بتائی گئی، جبکہ موجودہ قیمت 25 روپے 32 پیسے فی یونٹ ہے۔ بدترین منظرناموں میں یہ قیمت 28 روپے 84 پیسے اور 29 روپے 26 پیسے تک جا سکتی ہے، اور سالانہ خریداری کی لاگت 3.4 سے 3.8 کھرب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔ نیپرا نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، اس لیے یہ حتمی ٹیرف نہیں بلکہ ایک تجویز ہے۔

ایل پی جی کی نئی پالیسی سردیوں سے پہلے گیس کی قلت اور مہنگائی سے پریشان گھرانوں کے لیے ایک بڑا فیصلہ ہے، مگر اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ سرکاری درآمدات کتنی جلد مارکیٹ میں پہنچتی ہیں اور رعایتی گیس واقعی مستحق صارفین تک پہنچتی ہے یا نہیں۔ خبروں میں پہلی درآمدی کھیپ کی حتمی تاریخ نہیں بتائی گئی، اس لیے صارفین کو اس کا انتظار کرنا ہوگا۔

ذرائع: ڈان، عرب نیوز، میٹس گلوبل