لندن: شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن اپنے دونوں بچوں، شہزادہ آرچی اور شہزادی لیلیبت، کے ہمراہ برطانیہ منتقل ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے برطانوی اخبار دی ڈیلی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ خاندان رواں ماہ امریکہ سے برطانیہ منتقل ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جوڑا لندن کے قریب ایک نجی، غیر شاہی رہائش گاہ کو اپنا نیا مستقل مرکز بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ بچوں نے برطانیہ کے ایک اسکول میں داخلہ لے لیا ہے اور وہ ستمبر میں تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز کریں گے۔ تاہم اسکول کا نام یا رہائش گاہ کا درست مقام ظاہر نہیں کیا گیا۔
ہیری اور میگھن کے ترجمان یا بکنگھم پیلس کی جانب سے اس منتقلی کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس لیے دستیاب معلومات کو فی الحال میڈیا رپورٹس کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ شاہی خاندان کی طرف سے جاری کردہ حتمی اعلان کے طور پر۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جوڑا برطانیہ واپس آنے کے باوجود شاہی خاندان کے فعال یا سرکاری ارکان کی حیثیت دوبارہ اختیار نہیں کرے گا۔ ہیری اور میگھن نے جنوری 2020 میں شاہی ذمہ داریوں سے دست بردار ہونے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد وہ شمالی امریکہ منتقل ہو گئے۔ بعد ازاں انہوں نے کیلیفورنیا کے شہر مونٹیسیٹو میں رہائش اختیار کی اور تجارتی و فلاحی منصوبوں پر توجہ مرکوز کی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہیری کے برطانوی شاہی خاندان، خصوصاً ان کے والد بادشاہ چارلس سوم، سے تعلقات میں بہتری کے امکانات پر قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ ہیری کی اپنے بچوں کو برطانوی ماحول اور خاندان سے قریب رکھنے کی خواہش بھی ماضی میں رپورٹ ہوتی رہی ہے۔
دوسری جانب برطانیہ میں ہیری کے حفاظتی انتظامات کا معاملہ اب بھی حساس ہے۔ وہ پہلے کہہ چکے ہیں کہ سرکاری سطح کی پولیس سکیورٹی میں کمی کے باعث ان کے لیے خاندان کو برطانیہ لانا مشکل ہے۔ موجودہ رپورٹس میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ نئی رہائش گاہ کے لیے حفاظتی انتظامات کس نوعیت کے ہوں گے یا ان کے اخراجات کون برداشت کرے گا۔
رپورٹ شدہ منتقلی، اگر مکمل ہوتی ہے، تو 2020 کے بعد خاندان کی زندگی میں ایک اہم تبدیلی ہوگی، تاہم اس سے شاہی فرائض میں واپسی یا خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ رسمی مفاہمت خودبخود ثابت نہیں ہوتی۔

