واشنگٹن: امریکا کا مجموعی قومی قرض بدھ، 19 اگست 2026 کو پہلی بار 40 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گیا، جو دنیا کی سب سے بڑی معیشت کے بڑھتے ہوئے بجٹ خسارے اور قرضوں پر ایک غیر معمولی سنگِ میل ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے روزانہ جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق 18 اگست کو مجموعی عوامی قرض تقریباً 40.047 ٹریلین ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔
اس مجموعے میں عوام کے پاس موجود امریکی ٹریژری سیکیورٹیز اور حکومت کے مختلف اداروں کے درمیان واجب الادا قرض دونوں شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 32.266 ٹریلین ڈالر قرض عوام کے پاس موجود تھا، جبکہ تقریباً 7.782 ٹریلین ڈالر بین الحکومتی واجبات پر مشتمل تھا۔
قرض میں تیز رفتار اضافہ
قومی قرض 39 ٹریلین ڈالر کی سطح مارچ 2026 میں عبور کرنے کے صرف پانچ ماہ بعد 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچا۔ اس سے پہلے 38 ٹریلین ڈالر کا سنگِ میل اکتوبر 2025 میں عبور ہوا تھا۔ یہ رفتار ظاہر کرتی ہے کہ امریکی حکومت کی آمدنی اور اخراجات کے درمیان فرق مسلسل برقرار ہے۔
امریکی حکومت کے اخراجات میں سماجی تحفظ، طبی سہولتوں کے پروگرام، دفاع اور قرض پر سود کی ادائیگیاں نمایاں حصے رکھتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق قرض بڑھنے کے ساتھ سودی ادائیگیاں وفاقی بجٹ پر مزید دباؤ ڈال رہی ہیں، جس سے تعلیم، بنیادی ڈھانچے اور دیگر سرکاری ترجیحات کے لیے دستیاب وسائل متاثر ہو سکتے ہیں۔
امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ فضول خرچی، بدعنوانی اور غیر ضروری سرکاری اخراجات میں کمی کے ساتھ معاشی ترقی کے ذریعے قرض کو مجموعی قومی پیداوار کے مقابلے میں قابو کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل مدت میں اخراجات، ٹیکس آمدنی اور سماجی پروگراموں سے متعلق مشکل سیاسی فیصلوں کے بغیر قرض کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنا آسان نہیں ہوگا۔
پاکستان کے لیے ممکنہ اثرات
امریکی قرض کا یہ بحران پاکستان سمیت عالمی معیشت کے لیے اہم ہے، کیونکہ امریکی ٹریژری بانڈز عالمی مالیاتی نظام میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر قرض اور سودی اخراجات کے باعث امریکی شرحِ سود بلند رہتی ہے تو عالمی سرمایہ کار زیادہ منافع کے لیے امریکی اثاثوں کا رخ کر سکتے ہیں۔ اس صورت میں پاکستان جیسے ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے بیرونی قرض لینا مہنگا، عالمی سرمایہ کاری حاصل کرنا مشکل اور مقامی کرنسی پر دباؤ زیادہ ہو سکتا ہے۔
امریکی قرض کی حد تقریباً 41.1 ٹریلین ڈالر مقرر ہے۔ امریکی قانون سازوں کو آئندہ دوبارہ قرض کی حد بڑھانے یا معطل کرنے کے فیصلے کا سامنا ہوگا، ورنہ حکومتی ادائیگیوں اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی پیدا ہونے کا خدشہ رہے گا۔

