مرکزی مواد پر جائیں
جمعرات، 3 ستمبر 2026

روزنامہ فرض کراچی

کراچی، پاکستان
اہم خبریں
پاکستان

پاکستان اور شام نے تعلقات کے نئے مرحلے کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کرلیا

پاکستان اور شام نے تعلقات کے نئے مرحلے کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کرلیا — نمائشی تصویر

تصویر: AI سے تیار کردہ نمائشی تصویر · Farz Media · Farz Media AI illustration

اسلام آباد: پاکستان اور شام نے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو عملی تعاون میں تبدیل کرنے کے لیے سیاسی، سکیورٹی، تجارتی اور اقتصادی روابط بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیش رفت شامی وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی کے 19 اور 20 اگست 2026 کو پاکستان کے سرکاری دورے کے دوران سامنے آئی۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق یہ نئی شامی حکومت کے قیام کے بعد کسی شامی وزیر خارجہ کا پاکستان کا پہلا دورہ تھا۔ اس سے قبل شامی وزیر خارجہ نے مئی 2007 میں اسلام آباد کا دورہ کیا تھا، یوں دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے میں تقریباً 19 سال کا وقفہ ختم ہوا۔

دورے کے دوران شامی وزیر خارجہ نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے دوطرفہ مشاورت کی، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر تجارت جام کمال خان اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی ملاقاتیں کیں۔ فریقین نے پاکستان اور شام کے درمیان برادرانہ تعلقات کی اہمیت اور باقاعدہ ادارہ جاتی رابطوں کی ضرورت پر زور دیا۔

تجارت اور سرمایہ کاری پر توجہ

وزارت تجارت کے مطابق دونوں ملکوں نے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لیا۔ شامی وزیر خارجہ نے تعمیر نو سے متعلق اپنے ملک کی ترجیحات بیان کرتے ہوئے رہائش، توانائی، نقل و حمل، بندرگاہوں، زراعت، صنعت اور انسانی وسائل کو ممکنہ تعاون کے اہم شعبے قرار دیا۔

پاکستان نے ٹیکسٹائل، ادویہ سازی، چمڑے، کھیلوں کے سامان، خوراک، چاول، زرعی مصنوعات، ہلکی انجینئرنگ، اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں اپنی برآمدی صلاحیت سے آگاہ کیا۔ شام کی جانب سے پاکستان۔شام مشترکہ کاروباری کونسل کے قیام اور دمشق میں مشترکہ سرمایہ کاری فورم منعقد کرنے کی تجویز دی گئی۔

پاکستانی وزیر تجارت نے مشترکہ وزارتی کمیشن اور متعلقہ ورکنگ گروپس کو دوبارہ فعال کرنے، کاروباری وفود کے تبادلے اور دونوں ملکوں کے نجی شعبوں کے درمیان براہ راست رابطے بڑھانے کی تجاویز پیش کیں۔ شامی وزارت معیشت کا ایک وفد بھی آئندہ پاکستان کا دورہ کرکے تعاون کے شعبوں پر مزید بات چیت کرے گا۔

براہ راست پروازوں اور علاقائی امور پر گفتگو

دونوں جانب سے عوامی روابط، سفری سہولت اور براہ راست پروازیں بحال کرنے کے امکانات پر بھی بات ہوئی۔ پاکستان نے شام کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا، جبکہ شام کے مقبوضہ گولان سے متعلق مؤقف کی بھی تائید کی۔

پاکستان نے شام کے ابو الظہور فوجی اڈے پر اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔ فریقین نے علاقائی کشیدگی کم کرنے اور باہمی تعاون کو ایک قابلِ عمل منصوبے میں تبدیل کرنے کے لیے رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔