اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھیچی نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط بنانے اور ایسوسی ایشن آف ساؤتھ ایسٹ ایشین نیشنز کا مکمل ڈائیلاگ پارٹنر بننے کا خواہاں ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں آسیان کے قیام کی 59ویں سالگرہ کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مکمل ڈائیلاگ پارٹنرشپ پاکستان اور آسیان کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں اور اقتصادی تعاون کے لیے نئے امکانات پیدا کرے گی۔
اورنگزیب کھیچی نے آسیان کے رکن ممالک کی حکومتوں اور عوام کو پاکستان کی جانب سے مبارک باد پیش کرتے ہوئے علاقائی امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق آسیان نے کئی دہائیوں کے دوران مختلف ممالک کو ایک مربوط علاقائی برادری میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان آسیان کی علاقائی رابطہ کاری، اقتصادی انضمام اور پائیدار ترقی کی ترجیحات سے ہم آہنگ ہے۔ انہوں نے آسیان کمیونٹی وژن 2045 کی حمایت کا بھی اعادہ کیا، جس کا مقصد خطے میں زیادہ مضبوط، مربوط اور عوام مرکوز تعاون کو فروغ دینا ہے۔
تقریب میں بتایا گیا کہ پاکستان اور آسیان کے درمیان دوطرفہ تجارت 2025 میں تقریباً 11 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، تاہم دونوں جانب سرمایہ کاری، نجی شعبے کے روابط اور مشترکہ کاروباری منصوبوں کے ذریعے اس حجم میں اضافے کی گنجائش موجود ہے۔ پاکستان 1993 سے آسیان کا سیکٹرل ڈائیلاگ پارٹنر ہے اور اس کی خواہش کو مکمل ڈائیلاگ پارٹنرشپ تک وسعت دینے کی کوششیں کئی برس سے جاری ہیں۔
آسیان کمیٹی اسلام آباد کے چیئرمین اور پاکستان میں فلپائن کے سفیر ڈاکٹر ایمانوئل آر فرنانڈیز نے کہا کہ آسیان کے رکن ممالک پاکستان کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، اقتصادی انضمام اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
آسیان کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق پاکستان اور تنظیم کے درمیان 2024 سے 2028 کے لیے عملی تعاون کا پروگرام جاری ہے، جس میں مختلف ترجیحی شعبوں میں مشترکہ سرگرمیاں شامل ہیں۔ جون 2026 میں دونوں فریقوں نے اس پروگرام پر پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے عملی تعاون مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔
پاکستان کے لیے آسیان سے روابط میں اضافہ جنوب مشرقی ایشیا کی بڑی منڈیوں تک رسائی، برآمدات میں وسعت اور سرمایہ کاری کے نئے امکانات کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے۔

