امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مالی یا تجارتی روابط جاری رکھنے والے ممالک کو شدید معاشی نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے واشنگٹن کی جانب سے تہران کو عالمی معیشت سے الگ تھلگ کرنے کی نئی مہم کا اعلان کیا ہے۔ یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی، آبنائے ہرمز میں رکاوٹ اور خطے میں جاری جنگ نے عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیوں کو متاثر کیا ہے۔
ٹرمپ نے 19 اگست 2026 کو سوشل میڈیا پر کہا کہ جو بھی ملک اپنے مالی اداروں، کاروباری اداروں، ہوائی اڈوں یا حکومتی اداروں کے ذریعے ایران کو کسی بھی قسم کا سہارا دے گا، اسے “بہت بڑے معاشی نتائج” کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے تیل کی مبینہ اسمگلنگ، نقد رقوم کی منتقلی، ایکسچینج ہاؤسز، جہازوں کی رجسٹریشن اور فرنٹ کمپنیوں سمیت متعدد سرگرمیوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا، تاہم ممکنہ سزاؤں یا ہدف بنائے جانے والے ممالک کے نام واضح نہیں کیے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بعد ازاں آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ کے تحت ایران کے مالی روابط ختم کرنے کا اعلان کیا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق نئی پابندیوں کا دائرہ ڈیجیٹل اثاثوں، ٹیکنالوجی، سونے، ہوا بازی اور جہاز رانی کے شعبوں تک پھیلایا گیا ہے۔ امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد ایران کی آمدنی کے ذرائع اور بیرونِ ملک معاشی روابط منقطع کرنا ہے۔
ایران کے بڑے تجارتی شراکت دار چین، ترکی اور متحدہ عرب امارات ہیں، جبکہ پاکستان بھی تہران کے ساتھ سرحدی تجارت، توانائی اور علاقائی روابط بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پاکستان کو ایران اور امریکا دونوں کے ساتھ تعلقات، سعودی عرب کے ساتھ سکیورٹی روابط اور خطے میں ثالثی کی کوششوں کے باعث محتاط توازن برقرار رکھنا پڑ رہا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گوادر سمیت مغربی پاکستان کی بندرگاہیں پابندیوں سے بچنے کے لیے ممکنہ تجارتی راستوں کے طور پر دیکھی جا سکتی ہیں، تاہم یہ بات ایک امریکی ماہر کے تجزیے کے طور پر بیان کی گئی ہے، نہ کہ کسی ثابت شدہ سرگرمی کے طور پر۔ پاکستان کے لیے ایسے کسی بھی راستے سے منسلک ہونے کا خدشہ امریکی ثانوی پابندیوں، بینکاری مشکلات اور بیرونی تجارت پر دباؤ پیدا کر سکتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان نے کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھی ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد نے 24 اگست کو ایران کا دورہ کیا، جبکہ عسکری حکام نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے کی تصدیق کی۔ اسلام آباد کی بنیادی ترجیح جنگ بندی، مذاکرات کی بحالی اور خطے میں تجارت و توانائی کے راستوں کو محفوظ رکھنا ہے۔

