کراچی کے میئر بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ربیع الاول کے دوران شہر کی گلیوں اور محلوں میں روشنی کے انتظامات بہتر بنانے کے لیے 500 جدید اسٹریٹ لائٹس یونین کونسل چیئرمینز کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ ٹاؤن چیئرمینز کو 50 فومیگیشن مشینیں بھی فراہم کی گئی ہیں تاکہ مچھروں کے خاتمے اور بلدیاتی خدمات کو یونین کونسل کی سطح پر مؤثر بنایا جا سکے۔
یہ اعلانات کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے مرکزی دفتر میں منعقدہ تقریب کے دوران کیے گئے، جہاں مختلف ٹاؤنز کے نمائندوں اور یونین کونسل چیئرمینز نے شرکت کی۔ میئر کے مطابق اس اقدام کا مقصد ربیع الاول کے دوران مذہبی اجتماعات، جلوسوں اور شہری سرگرمیوں والے علاقوں میں روشنی کی سہولت بہتر بنانا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ اسٹریٹ لائٹس کی فراہمی کا فیصلہ یونین کونسل چیئرمینز کی درخواست پر کیا گیا اور یہ وعدہ بلدیاتی بجٹ اجلاس کے دوران کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق لائٹس ٹاؤنز میں بلاامتیاز تقسیم کی گئی ہیں تاکہ مختلف علاقوں میں شہریوں کو بنیادی سہولت فراہم کی جا سکے۔
میئر نے بتایا کہ فومیگیشن مشینیں ٹاؤن چیئرمینز کو دی گئی ہیں، جس سے مچھروں کے خلاف کارروائیوں کو مقامی سطح پر وسعت دینے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کراچی میں فومیگیشن سرگرمیوں کے سلسلے میں چینی حکومت اور کراچی میں چینی قونصل خانے کے تعاون کا بھی ذکر کیا۔
تقریب میں فائر بریگیڈ کے لیے آکسیجن ماسک اور دیگر حفاظتی سامان کی فراہمی کا بھی بتایا گیا۔ میئر نے کہا کہ غیر فعال فائر ٹینڈرز کو رواں سال بحال کرکے دوبارہ شہر کی سڑکوں پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ ہنگامی حالات میں شہریوں کو فوری امداد مل سکے۔
دوسری جانب، ایک الگ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شہر کی تمام 260 یونین کمیٹیوں کے لیے اسٹریٹ لائٹس کی فراہمی بجٹ میں شامل کی گئی ہے، جبکہ کراچی کے 25 ٹاؤنز کو فومیگیشن مشینیں فراہم کی گئی ہیں۔ تاہم حالیہ تقریب سے متعلق سرکاری خبر میں فوری طور پر تقسیم کی جانے والی مشینوں کی تعداد 50 اور اسٹریٹ لائٹس کی تعداد 500 بتائی گئی ہے۔
کراچی میں اسٹریٹ لائٹس، صفائی، مچھروں کے خاتمے اور فائر بریگیڈ کی استعداد شہریوں کے لیے اہم بلدیاتی مسائل ہیں۔ ان اقدامات کے نتائج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ فراہم کردہ آلات کس رفتار سے متعلقہ علاقوں میں نصب اور استعمال کیے جاتے ہیں اور ان کی دیکھ بھال کا مؤثر نظام کس حد تک قائم کیا جاتا ہے۔

