امریکی دوا ساز اداروں موڈرنا اور مرک نے اعلان کیا ہے کہ ان کی ذاتی نوعیت کی ایم آر این اے پر مبنی تجرباتی تھراپی نے میلانوما کے علاج کی ایک بڑے پیمانے کی مرحلہ سوم آزمائش میں اہم اہداف حاصل کرلیے ہیں۔ یہ پیش رفت جلد کے خطرناک سرطان کے ان مریضوں کے لیے امید پیدا کرتی ہے جن کے رسولی کو سرجری کے ذریعے مکمل طور پر نکال دیا گیا ہو، مگر بیماری کے دوبارہ لوٹنے یا جسم کے دوسرے حصوں تک پھیلنے کا خطرہ برقرار رہتا ہے۔
کمپنیوں کے مطابق انٹسمران آٹو جین نامی تھراپی کو مرک کی امیونوتھراپی دوا کی ٹروڈا، یعنی پیمبرولیزوماب، کے ساتھ استعمال کیا گیا۔ آزمائش میں اس امتزاج کا موازنہ صرف کی ٹروڈا کے استعمال سے کیا گیا۔ مرحلہ سوم کی INTerpath-001 آزمائش میں مکمل طور پر نکالی جاچکی اسٹیج IIB سے IV تک کی میلانوما کے مریض شامل تھے۔
ابتدائی نتائج میں امتزاجی علاج نے آزمائش کے بنیادی ہدف، یعنی دوبارہ بیماری سے محفوظ رہنے کے عرصے، میں کی ٹروڈا کے مقابلے میں معنی خیز بہتری دکھائی۔ ایک اہم ثانوی ہدف، یعنی سرطان کے جسم کے دور دراز حصوں تک نہ پھیلنے کا عرصہ، بھی حاصل کرلیا گیا۔ تاہم کمپنیوں نے ابھی یہ نہیں بتایا کہ خطرے میں کمی کی درست شرح کتنی رہی، مریض کتنے عرصے تک بیماری سے محفوظ رہے، یا مجموعی بقا پر کیا اثر پڑا۔
ذاتی نوعیت کا طریقہ کار
یہ تھراپی روایتی حفاظتی ویکسین کی طرح صحت مند افراد کو پہلے سے دینے کے لیے تیار نہیں کی گئی۔ مریض کے سرطان کے جینیاتی نمونے کا تجزیہ کرکے اس کی رسولی میں موجود مخصوص تبدیلیوں کے مطابق ایم آر این اے علاج تیار کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد مدافعتی نظام کے ٹی سیلز کو ان مخصوص سرطان زدہ خلیوں کی شناخت اور حملے کے لیے تربیت دینا ہے۔
موڈرنا نے کہا ہے کہ آزمائش کے مریضوں کی مجموعی بقا سمیت دیگر نتائج پر نگرانی جاری رہے گی۔ تفصیلی اعدادوشمار آئندہ طبی کانفرنس میں پیش کیے جائیں گے اور کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ منظوری کے ممکنہ مراحل کے لیے متعلقہ नियामक اداروں سے بات کریں گی۔
یہ علاج ابھی تحقیقی مرحلے میں ہے اور اسے میلانوما کے لیے معمول کی منظور شدہ دوا نہیں سمجھا جاسکتا۔ اس کے باوجود ماہرین کے لیے یہ نتیجہ اہم ہے، کیونکہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی ایم آر این اے پر مبنی سرطان تھراپی نے مرحلہ سوم آزمائش میں مثبت نتیجہ دیا ہے۔ موڈرنا اور مرک اسی تکنیک کو پھیپھڑوں، مثانے اور گردے کے سرطان سمیت دیگر بیماریوں میں بھی آزما رہے ہیں۔

