مرکزی مواد پر جائیں
منگل، 25 اگست 2026

روزنامہ فرض کراچی

کراچی، پاکستان
اہم خبریں
پاکستان

پاکستان کی ماہی گیری میں 10 ارب ڈالر آمدن کا ہدف، اصلاحات پر زور

پاکستان کی ماہی گیری میں 10 ارب ڈالر آمدن کا ہدف، اصلاحات پر زور — نمائشی تصویر

تصویر: AI سے تیار کردہ نمائشی تصویر · Farz Media · Farz Media AI illustration

اسلام آباد: وفاقی وزیرِ بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت قومی ماہی گیری و آبی زراعت پالیسی کے ذریعے پاکستان کے فشریز شعبے کی استعداد سے فائدہ اٹھانے کے لیے کام کر رہی ہے، جس سے مناسب پالیسی اقدامات کے ذریعے سالانہ 10 ارب ڈالر تک آمدن حاصل ہونے کی توقع ہے۔

وزیر نے یہ بات 20 اگست 2026 کو وزارتِ بحری امور اور اس سے منسلک اداروں کی کارکردگی، پیش رفت اور منصوبوں کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں سمندری معیشت سے متعلق سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

وزارت کے مطابق وزیر نے بحری شعبے میں کاروبار کرنے کے طریقہ کار کو آسان بنانے، غیر ضروری انتظامی رکاوٹیں کم کرنے اور نجی شعبے سمیت متعلقہ فریقوں سے بامعنی مشاورت کی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کاروباری اداروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی تجاویز کو پالیسیوں اور سمندر سے وابستہ معاشی اقدامات میں شامل کیا جائے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ کاروباری برادری کے لیے ایک ایسے ون ونڈو نظام پر کام مکمل کر لیا گیا ہے جہاں وزارت سے متعلق متعدد سرکاری خدمات ایک ہی پلیٹ فارم کے ذریعے دستیاب ہوں گی۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے طریقہ کار میں تاخیر کم اور سرمایہ کاروں کے لیے رسائی بہتر ہو سکتی ہے۔

وزیر نے گوادر بندرگاہ پر 100 ایکڑ پر مشتمل آف ڈاک ٹرمینل کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔ حکومت کے مطابق یہ منصوبہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارتی اور رسد کے روابط مضبوط کرنے اور گوادر کو خطے کے لیے تجارتی دروازے کے طور پر اجاگر کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

اجلاس میں سمندری حیاتیاتی تنوع اور ساحلی ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے 30 لاکھ ڈالر کے عالمی ماحولیاتی سہولت کے تعاون سے جاری منصوبے پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیر نے واضح کیا کہ بحری معیشت کی ترقی کے ساتھ ماحولیاتی تحفظ، پائیدار ماہی گیری اور ساحلی وسائل کا تحفظ بھی یقینی بنانا ہوگا۔

پاکستان ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ ساحلی پٹی اور وسیع اندرونِ ملک آبی وسائل رکھتا ہے، تاہم ماہی گیری اور آبی زراعت کا شعبہ اب بھی کم ترقی یافتہ ہے۔ ماہرین کے مطابق 10 ارب ڈالر کا ہدف موجودہ آمدن نہیں بلکہ بہتر انتظام، ویلیو ایڈیشن، جدید ٹیکنالوجی، کولڈ چین، برآمدی معیار اور پائیدار وسائل کے استعمال سے حاصل ہونے والی ممکنہ قدر کا تخمینہ ہے۔