مرکزی مواد پر جائیں
پیر، 24 اگست 2026

روزنامہ فرض کراچی

کراچی، پاکستان
اہم خبریں
ورلڈ

ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس اور واشنگٹن کی وسیع تعمیرِ نو جاری، منصوبوں پر قانونی و سیاسی تنازع

ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس اور واشنگٹن کی وسیع تعمیرِ نو جاری، منصوبوں پر قانونی و سیاسی تنازع — نمائشی تصویر

تصویر: AI سے تیار کردہ نمائشی تصویر · Farz Media · Farz Media AI illustration

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس اور دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کی شکل و صورت بدلنے کے لیے متعدد بڑے تعمیراتی اور تزئینی منصوبے آگے بڑھا رہے ہیں۔ ان اقدامات میں وائٹ ہاؤس کے ایسٹ ونگ کی جگہ نیا بال روم، جنوبی لان میں ہیلی پیڈ، روز گارڈن میں تبدیلیاں، کینیڈی سینٹر کی تزئینِ نو اور شہر کے اہم مقامات کے قریب نئی یادگاری تعمیرات شامل ہیں۔

رائٹرز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے منصوبوں میں وائٹ ہاؤس کے لیے تقریباً 400 ملین ڈالر کا بال روم اور واشنگٹن کے میموریل سرکل کے قریب 250 فٹ بلند محرابی یادگار شامل ہے۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ منصوبے صدارتی تقریبات کے لیے اضافی جگہ، بہتر سکیورٹی اور امریکا کی 250ویں سالگرہ کے موقع پر دارالحکومت کو زیادہ نمایاں بنانے کے لیے ضروری ہیں۔

بال روم کی تعمیر کے لیے وائٹ ہاؤس کا تاریخی ایسٹ ونگ منہدم کیا جا چکا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے عمارت کے تاریخی ورثے کو نقصان پہنچا اور منصوبہ مناسب عوامی و ادارہ جاتی نگرانی کے بغیر تیزی سے آگے بڑھایا گیا۔ منصوبے کی مالی معاونت کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں، کیونکہ انتظامیہ نے نجی عطیات کے ذریعے اخراجات پورے کرنے کی بات کی ہے۔

اگست 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے تعمیراتی کام کو فی الحال جاری رہنے کی اجازت دی، جس سے ٹرمپ انتظامیہ کو عارضی قانونی کامیابی ملی۔ تاہم اس فیصلے سے منصوبے پر جاری بنیادی قانونی اور آئینی اعتراضات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ مختلف درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ وائٹ ہاؤس جیسے تاریخی مقام میں بڑی تبدیلیوں کے لیے کانگریس اور متعلقہ وفاقی اداروں کی منظوری ضروری ہے۔

روز گارڈن میں پہلے ہی سبزہ زار کی جگہ سفید پتھروں کا صحن اور میزیں قائم کی گئی ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی تازہ رپورٹ کے مطابق اب وہاں نئی گلاب کی کیاریوں کے بجائے مجسموں کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ اوول آفس کی سونے سے مزین تزئین، نئے بال روم اور دیگر تعمیراتی کاموں کو اپنی انتظامی ترجیحات اور ذاتی تعمیراتی انداز کی علامت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

واشنگٹن میں مجوزہ محراب، لنکن میموریل کے اطراف راستوں کی تبدیلی اور کینیڈی سینٹر کی تعمیرِ نو بھی اسی وسیع منصوبے کا حصہ ہیں۔ ماہرینِ تحفظِ آثار اور بعض قانون سازوں کو خدشہ ہے کہ بڑے ڈھانچے شہر کے تاریخی منظرنامے اور یادگاری مقامات کے اصل توازن کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ان منصوبوں کی پیش رفت امریکی ادارہ جاتی نگرانی، تاریخی ورثے اور صدارتی اختیارات کے بارے میں بحث کو مزید تیز کر رہی ہے۔