کراچی میں یومِ آزادی کے موقع پر قومی پرچموں اور بیجز کے اسٹال پر فائرنگ کرکے دکاندار کو قتل کرنے کے الزام میں کالعدم سندھودیش ریوولوشنری آرمی (ایس آر اے) سے تعلق رکھنے والے تین مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ گرفتاریوں کا اعلان سندھ کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے بدھ، 19 اگست 2026 کو کیا۔
سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی ایک وفاقی حساس ادارے کے ساتھ مشترکہ طور پر کی گئی۔ تینوں مشتبہ افراد کو 18 اگست کو کورنگی کاز وے کے قریب کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا۔ پولیس نے ان کی شناخت سجاد، ظفر اور فراز کے ناموں سے کی ہے۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد سے اسلحہ اور دستی بم بھی برآمد ہوئے ہیں۔
تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ 12 اگست کی رات تقریباً ساڑھے 11 بجے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی فیز ٹو میں سن سیٹ بلیوارڈ کے قریب پیش آیا۔ فائرنگ کا نشانہ قومی پرچم اور یومِ آزادی کے بیجز فروخت کرنے والا اسٹال تھا۔ حملے میں اسٹال کا مالک امان شدید زخمی ہوا اور بعد ازاں دم توڑ گیا۔ پولیس کے مطابق مقتول کورنگی کے علاقے کرسچن ٹاؤن کا رہائشی تھا۔
سی ٹی ڈی کے بیان کے مطابق سجاد نے مبینہ طور پر یومِ آزادی کے اسٹالز کی پہلے سے نگرانی کی اور 11 اگست کو ڈی ایچ اے فیز ٹو کے اسٹال کو ہدف بنانے کا فیصلہ کیا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ حملے کے وقت سجاد نے فائرنگ کی، جبکہ ظفر اور فراز نے مبینہ طور پر موٹر سائیکل پر اس کا ساتھ دیا۔ حکام نے کہا ہے کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ممکنہ سہولت کاروں، بیرونِ ملک موجود رابطہ کاروں، مالی معاونت اور اسلحے کے ذرائع کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔
سی ٹی ڈی کے مطابق ملزمان نے دورانِ تفتیش دعویٰ کیا کہ انہیں کراچی میں 14 اگست سے قبل خوف و ہراس پھیلانے اور یومِ آزادی کے اسٹالز کو نشانہ بنانے کی ہدایت دی گئی تھی۔ یہ دعویٰ پولیس کی تفتیش کا حصہ ہے اور اس کی آزاد عدالتی تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی۔
حکام نے گرفتار افراد کے خلاف دہشت گردی اور قتل سمیت مختلف مقدمات کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ سندھ حکومت نے ایس آر اے کو 2020 میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دیا تھا۔ سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد کے ممکنہ دیگر جرائم میں ملوث ہونے کا پہلو بھی زیرِ تفتیش ہے۔
واقعے کی اہمیت
یومِ آزادی کے موقع پر شہریوں کے لیے لگائے گئے اسٹال پر حملہ کراچی میں عوامی مقامات کی سکیورٹی اور کالعدم مسلح گروہوں کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی سے متعلق اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ پولیس نے کہا ہے کہ مزید گرفتاریوں اور نیٹ ورک کے خاتمے کے لیے تحقیقات جاری رہیں گی۔

