مرکزی مواد پر جائیں
اتوار، 23 اگست 2026

روزنامہ فرض کراچی

کراچی، پاکستان
اہم خبریں
پاکستان

جناح کی بیماری راز میں رکھنے والے دو بھارتی ڈاکٹروں کے لیے پاکستان کا اعلیٰ سول اعزاز

جناح کی بیماری راز میں رکھنے والے دو بھارتی ڈاکٹروں کے لیے پاکستان کا اعلیٰ سول اعزاز — نمائشی تصویر

تصویر: AI سے تیار کردہ نمائشی تصویر · Farz Media · Farz Media AI illustration

اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے قائداعظم محمد علی جناح کی بیماری سے متعلق معلومات کو راز میں رکھنے سے منسوب خدمات پر ممبئی سے تعلق رکھنے والے دو مرحوم ڈاکٹروں، ڈاکٹر جل رتن جی پٹیل اور ڈاکٹر جل ڈیبو، کے لیے نشانِ قائداعظم کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان 14 اگست 2026 کو جاری ہونے والی پاکستان سول ایوارڈز کی سرکاری فہرست میں شامل ہے۔

سرکاری دستاویز کے مطابق دونوں ڈاکٹروں کو “پاکستان کے لیے خدمات” کے زمرے میں یہ اعزاز بعد از وفات دیا جائے گا۔ اعزازات کی تقریب 23 مارچ 2027 کو یومِ پاکستان کے موقع پر منعقد ہونے والی ہے۔ دستیاب سرکاری فہرست میں اعزاز کا نام نشانِ قائداعظم درج ہے، نہ کہ نشانِ امتیاز۔

جناح کی صحت سے متعلق تاریخی پس منظر

تاریخی حوالوں کے مطابق ڈاکٹر جل رتن جی پٹیل قائداعظم کے معالج تھے، جبکہ ڈاکٹر جل ڈیبو ایک ریڈیولوجسٹ تھے۔ 1946 میں ممبئی، جسے اس وقت بمبئی کہا جاتا تھا، میں قائداعظم کے ایکسرے اور صحت کا جائزہ لیا گیا۔ بعد کے بیانیوں میں ان کی بیماری کو شدید تپِ دق قرار دیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں ڈاکٹروں نے قائداعظم کی صحت کی سنگینی کو عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، جو ایوارڈز کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں، نے اس پیشہ ورانہ رازداری کو پاکستان کے قیام کے دور میں ایک غیر معمولی خدمت قرار دیا ہے۔

احسن اقبال کے مطابق اگر برطانوی حکام، خصوصاً آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن، کو قائداعظم کی بیماری کی شدت کا علم ہوتا تو اقتدار کی منتقلی اور تقسیمِ ہند کے فیصلوں کا وقت مختلف ہو سکتا تھا۔ تاہم یہ بات تاریخی قیاس کے طور پر بیان کی جاتی ہے، قطعی طور پر ثابت شدہ حقیقت کے طور پر نہیں۔

سرکاری فہرست میں درست اعزاز

اس خبر کے ابتدائی بعض حوالوں میں ڈاکٹروں کے لیے نشانِ امتیاز کا ذکر کیا گیا، تاہم کابینہ ڈویژن کی سرکاری فہرست میں ڈاکٹر جل رتن جی پٹیل اور ڈاکٹر جل ڈیبو دونوں کے نام کے سامنے نشانِ قائداعظم درج ہے۔ یہ فرق اہم ہے کیونکہ پاکستان کے سول اعزازات کے نظام میں دونوں الگ اعزازات ہیں۔

ڈاکٹروں کو یہ اعزاز بعد از وفات دیا جائے گا، جبکہ اسے ان کے خاندانوں یا نمائندوں کے ذریعے وصول کیے جانے کا امکان ہے۔ اس فیصلے نے قائداعظم کی صحت، طبّی رازداری اور قیامِ پاکستان کے تاریخی حالات کے باہمی تعلق پر ایک مرتبہ پھر بحث چھیڑ دی ہے۔