مرکزی مواد پر جائیں
اتوار، 18 اکتوبر 2026

روزنامہ فرض کراچی

کراچی، پاکستان
اہم خبریں
پاکستان

بلوچستان کے ضلع خضدار میں 5.9 شدت کا زلزلہ، جانی نقصان کی اطلاع نہیں

خضدار: بلوچستان کے ضلع خضدار اور گردونواح میں ہفتہ کی صبح زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.9 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کے بعد لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور شہری کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دکانوں سے باہر نکل آئے۔

محکمہ موسمیات کے قومی زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلہ صبح 10 بج کر 7 منٹ پر آیا۔ اس کی گہرائی 25 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی، جبکہ مرکز خضدار سے 48 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع تھا۔ مرکز کا محل وقوع عرض بلد 28.02 درجے شمال اور طول بلد 66.20 درجے مشرق بتایا گیا ہے۔

زلزلے کے جھٹکے خضدار کے علاوہ قلات اور سوراب میں بھی محسوس کیے گئے۔ جھٹکے اتنے شدید تھے کہ لوگ گھروں سے نکل کر کھلی جگہوں پر جمع ہوگئے اور کافی دیر تک باہر ہی رہے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق زلزلے سے کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ انتظامیہ نے کہا ہے کہ تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے اور صورتحال کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے ملنے والی معلومات پر بھروسہ کریں۔

بین الاقوامی زلزلہ پیما اداروں نے اس زلزلے کی شدت میں معمولی فرق ریکارڈ کیا۔ امریکی جیولوجیکل سروے نے شدت 5.7 اور جرمن تحقیقی ادارے نے 5.6 بتائی۔ شدت کے ان اعداد میں فرق مختلف پیمائشی طریقوں کی وجہ سے سامنے آتا ہے، تاہم پاکستان کے اندر محکمہ موسمیات کا ریکارڈ سرکاری پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان تین بڑی ٹیکٹونک پلیٹوں — عرب، یوریشین اور بھارتی — پر واقع ہے، جن کے ملنے سے ملک میں پانچ زلزلہ خیز زون بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان سمیت ملک کے مختلف حصوں میں وقتاً فوقتاً زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جاتے ہیں۔

رواں سال اگست میں بھی بلوچستان میں 4.8 شدت کا زلزلہ آیا تھا، جس کے جھٹکے ژوب اور چمن سمیت کئی علاقوں میں محسوس کیے گئے تھے۔ اس وقت بھی کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلے کے دوران گھبراہٹ سے بچنا اور کھلی جگہوں کی طرف جانا سب سے محفوظ عمل ہے۔ عمارتوں، بجلی کے کھمبوں اور کمزور دیواروں سے دور رہنا اور آفٹر شاکس کے لیے تیار رہنا ضروری ہے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی ہنگامی صورت میں متعلقہ ادارے متحرک رہیں گے۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور مصدقہ معلومات کے لیے سرکاری اعلانات کا انتظار کریں۔

ذرائع: ڈان، ایکسپریس ٹریبیون