مرکزی مواد پر جائیں
اتوار، 18 اکتوبر 2026

روزنامہ فرض کراچی

کراچی، پاکستان
اہم خبریں
کراچی

فلور ملرز کا سندھ حکومت کی گندم اٹھانے سے انکار، ناقص معیار کا الزام

کراچی: سندھ کے فلور ملرز نے حکومت کی جانب سے جاری کی گئی گندم اٹھانے سے انکار کر دیا ہے۔ ملرز کا موقف ہے کہ گوداموں میں رکھی گئی گندم کا معیار ناقص ہے اور اس کا بڑا حصہ انسانی استعمال کے قابل نہیں رہا۔ یہ فیصلہ جمعرات کو ملرز کے اجلاس اور گندم کے معائنے کے بعد کیا گیا۔

ملرز کے نمائندوں نے کراچی کے علاقے لانڈھی میں سندھ فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے گوداموں میں رکھی گندم کا معائنہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ گوداموں میں موجود گندم کا بڑا حصہ خراب ہو چکا ہے، جبکہ صرف ایک چھوٹا حصہ قابل استعمال ہے۔ ملرز کے مطابق ذخیرے میں چار سال پرانی گندم بھی شامل ہے۔

یہ گندم سندھ حکومت نے فلور ملوں کے لیے جاری کی تھی تاکہ آٹے کی فراہمی کا سلسلہ جاری رہے۔ تاہم ملرز کا کہنا ہے کہ خراب گندم سے تیار ہونے والا آٹا صارفین کے لیے موزوں نہیں ہوگا، اس لیے انہوں نے پوری گندم اٹھانے سے انکار کیا ہے۔

ملرز نے سندھ فوڈ ڈیپارٹمنٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ خراب گندم کو قابل استعمال گندم سے الگ کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ چھانٹی کے بعد جو گندم انسانی استعمال کے قابل ہوگی، ملرز اسے اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔ ملرز کے مطابق اچھی اور خراب گندم کو الگ کیے بغیر پورا ذخیرہ قبول کرنا ممکن نہیں۔

اس کے ساتھ ہی فلور ملز ایسوسی ایشن نے متعلقہ حکام سے گندم کی درآمد کی اجازت کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ملرز کا موقف ہے کہ مقامی ذخائر کی خراب حالت کے پیش نظر درآمد کے ذریعے فراہمی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

ملرز نے خبردار کیا ہے کہ اگر گندم کی فراہمی کا مسئلہ جلد حل نہ ہوا تو آنے والے مہینوں میں آٹے کی دستیابی اور قیمت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ ان کے مطابق صوبے کو آئندہ مہینوں کے لیے گندم کی بڑی مقدار درکار ہے، اور موجودہ صورتحال میں فراہمی کا سلسلہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

اب یہ معاملہ محکمہ خوراک اور فلور ملرز کے درمیان حل طلب ہے۔ صارفین کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ آٹا وافر مقدار میں اور مناسب قیمت پر دستیاب رہے گا یا نہیں۔ اس کا جواب اس بات پر منحصر ہے کہ خراب گندم کی چھانٹی کب ہوتی ہے اور فراہمی کے متبادل انتظامات کتنی جلدی عمل میں آتے ہیں۔

ذرائع: ڈان، اے آر وائی نیوز