کوئٹہ: پاکستان نے ایران کے ساتھ گبد رمدان اور تفتان سرحدی گزرگاہوں سے تجارت عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ وزارت تجارت نے جمعے کو ایک حکم نامے کے ذریعے تین اکتوبر کا سابقہ حکم نامہ فوری طور پر واپس لے لیا، جس کے بعد ہفتے سے دونوں گزرگاہوں پر ہر قسم کی تجارتی سرگرمیاں رک گئیں۔
بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کے مشیر شاہد رند نے کہا ہے کہ سرحد کی عارضی بندش کا مقصد سیکیورٹی خدشات دور کرنا، اسمگلنگ روکنا اور سرحدی نظام کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں پر کان نہ دھرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے اعلیٰ حکام کے درمیان رابطہ جاری ہے اور سرحد جلد دوبارہ کھلنے کا امکان ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی بندش کو عارضی قرار دیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق انہوں نے کہا کہ تکنیکی مسائل کی وجہ سے سرحدی آمدورفت معطل ہوئی ہے اور دونوں ملکوں کے حکام معمول کی سرگرمیاں بحال کرنے کے لیے مشاورت کر رہے ہیں۔
کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے اپنے ارکان اور ایران سے تجارت کرنے والے کاروباری افراد کو ہدایت کی ہے کہ وہ اگلے احکامات تک نئے درآمدی و برآمدی آرڈر نہ دیں۔ چیمبر کے مطابق وزارت تجارت کی جانب سے درآمدات کے لیے ای آئی ایف استثنیٰ میں توسیع کا حکم نامہ واپس لیے جانے کے بعد تاجروں کو نئی خریداری اور مال کی بکنگ روکنے کو کہا گیا ہے۔
سرحد کی بندش کے باعث دونوں جانب سینکڑوں مال بردار گاڑیاں پھنس گئی ہیں۔ ان گاڑیوں میں ایل پی جی، چاول، تازہ پھل اور دیگر ضروری اشیا لدی ہوئی ہیں۔ انڈپینڈنٹ اردو کے مطابق کسٹم حکام نے بتایا ہے کہ صرف ان گاڑیوں کو پاکستان میں داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا جن کی گڈز ڈیکلریشن پہلے ہی جمع ہو چکی تھی، تاہم سرحدی گیٹ بند ہونے کے باعث یہ گاڑیاں بھی فی الحال داخل نہیں ہو سکیں۔ حکام کے مطابق دونوں راستوں سے درآمدات، برآمدات، ٹرانزٹ اور بین الاقوامی روڈ ٹرانسپورٹ سمیت ہر قسم کی تجارتی سرگرمیاں معطل ہیں۔
گبد رمدان گزرگاہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کا ایک اہم راستہ بن چکی تھی۔ تاجروں اور تجارتی ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ بندش برقرار رہی تو کراچی سمیت ملک کے مختلف حصوں میں ایل پی جی کی قلت اور کھلی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ تفتان کا راستہ پہلے ہی بلوچستان میں بدامنی کے باعث متاثر تھا، اس لیے گبد رمدان کی بندش سے دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق مسافروں کی آمدورفت جاری ہے اور تجارتی سرگرمیوں کی معطلی کا اطلاق صرف مال برداری پر ہوتا ہے۔ دونوں ملکوں کے حکام کا کہنا ہے کہ انتظامی امور طے ہوتے ہی سرحدی تجارت بحال کر دی جائے گی، تاہم بحالی کی کوئی حتمی تاریخ ابھی سامنے نہیں آئی۔
ذرائع: ڈان، عرب نیوز، انڈپینڈنٹ اردو

