اسلام آباد: پاکستان نے بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود پر عائد پابندی میں مزید ایک ماہ کی توسیع کر دی ہے۔ پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) کی جانب سے ہفتے کو جاری کردہ نوٹس ٹو ایئرمین (نوٹم) کے مطابق یہ پابندی اب 24 نومبر 2026 کی صبح تک نافذ رہے گی۔
نوٹم کے متن کے مطابق “بھارتی رجسٹرڈ طیاروں اور بھارتی ایئرلائنز یا آپریٹرز کے زیرِ انتظام، ملکیت یا لیز پر لیے گئے طیاروں کے لیے پاکستانی فضائی حدود دستیاب نہیں، جن میں فوجی پروازیں بھی شامل ہیں”۔ پابندی کی یہ تازہ توسیع ہفتے کی شام سات بج کر پینتالیس منٹ پر نافذ ہوئی اور 24 نومبر کو صبح چار بج کر انسٹھ منٹ تک جاری رہے گی۔ اس سے قبل پابندی کی مدت 24 اکتوبر کو ختم ہونا تھی۔
پاکستان کی فضائی حدود دو فلائٹ انفارمیشن ریجنز — کراچی اور لاہور — میں تقسیم ہے اور تازہ نوٹم دونوں ریجنز پر لاگو ہوتا ہے۔ پی اے اے کے ترجمان کے مطابق نیا نوٹم 24 نومبر کی صبح پانچ بجے تک مؤثر رہے گا۔
پاکستان نے پہلی بار یہ پابندی اپریل 2025 میں عائد کی تھی، جب پہلگام حملے کے بعد دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا۔ بھارت نے الزام لگایا تھا کہ حملے میں پاکستان کا ہاتھ تھا، تاہم اسلام آباد نے اس الزام کی سختی سے تردید کرتے ہوئے آزادانہ اور شفاف تحقیقات کی پیشکش کی تھی۔ جواب میں بھارت نے 30 اپریل 2025 کو پاکستانی ایئرلائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھیں۔
تب سے پاکستان متعدد بار اس پابندی میں توسیع کر چکا ہے، جس کے باعث بھارتی فضائی کمپنیاں طویل اور مہنگے متبادل راستے استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ ڈان کے مطابق ائیر انڈیا نے گزشتہ سال اکتوبر میں بھارتی حکام کو جمع کرائے گئے دستاویزات میں بتایا تھا کہ پابندی کے باعث بعض طویل فاصلے کی پروازوں میں ایندھن کے اخراجات میں 29 فیصد تک اضافہ ہوا اور سفر کا دورانیہ تین گھنٹے تک بڑھ گیا، جبکہ سالانہ منافع پر تقریباً پینتالیس کروڑ پچاس لاکھ ڈالر (455 ملین ڈالر) کا اثر پڑنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔
مئی 2025 میں دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان شدید فضائی جھڑپ بھی ہوئی تھی، جس میں پاکستان نے سات بھارتی لڑاکا طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔ دس مئی کو دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا۔
ذرائع: ڈان، دی ایکسپریس ٹریبیون، دی نیوز، جیو نیوز

