اسلام آباد، 22 اکتوبر — صدر آصف علی زرداری آج تین روزہ سرکاری دورے پر جرمنی روانہ ہو رہے ہیں۔ دفتر خارجہ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صدر مملکت 22 سے 24 اکتوبر تک جرمنی میں ہوں گے، جہاں ان کی ملاقاتیں جرمن صدر فرینک والٹر شٹائن مائر، اعلیٰ قیادت اور کاروباری رہنماؤں سے ہوں گی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی تبادلوں کا تسلسل ہے اور اسے اس لیے بھی خاص اہمیت حاصل ہے کہ رواں برس پاکستان اور جرمنی کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ بات چیت میں دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کا عزم ظاہر کیا جائے گا، جب کہ معاشی و تجارتی تعاون پر خاص توجہ دی جائے گی۔
اخبار دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق کسی بھی پاکستانی صدر کا جرمنی کا یہ پہلا دوطرفہ دورہ ہوگا جو بیس برس کے عرصے میں کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جرمن صدر کی دعوت پر ہونے والے اس دورے کے وفد میں کاروباری برادری اور اعلیٰ حکام شامل ہیں، اور بات چیت میں کشمیر تنازع، سندھ طاس معاہدے کی معطلی، مشرق وسطی اور روس یوکرین جنگ سمیت علاقائی اور عالمی صورت حال بھی زیر غور آئے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ بھی صدر کے ہمراہ دورے پر جا رہے ہیں۔ گزشتہ روز انہوں نے کراچی میں جرمن قونصل جنرل تھامس ای شلتزے سے ملاقات کی، جس میں دورے کی تیاریوں کے علاوہ تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون پر گفتگو ہوئی۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق وزیراعلیٰ نے منچھر جھیل کے پانی کی صفائی کے لیے جرمن ٹیکنالوجی کے استعمال کی خواہش ظاہر کی، جب کہ نہری پانی کے ضیاع کو روکنے، زراعت میں جدید ٹیکنالوجی اور جرمن ترقیاتی ادارے جی آئی زیڈ کے منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
گزشتہ ماہ بھی دونوں ممالک کے درمیان رابطے جاری رہے تھے۔ ستمبر میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر جرمن وزیر خارجہ جوہان وادیفل سے ملاقات کی تھی۔ دفتر خارجہ کے مطابق اس ملاقات میں جرمنی نے علاقائی تنازعات خصوصاً آبنائے ہرمز اور باب المندب میں پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا تھا۔
مبصرین کے مطابق صدر زرداری کا یہ دورہ دو دہائیوں بعد کسی پاکستانی صدر کا برلن کا پہلا باقاعدہ سفر ہے، جو پاکستان کی خارجہ پالیسی میں یورپ کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دینے کا اشارہ ہے۔
ذرائع: ڈان، دنیا نیوز، دی نیوز، بزنس ریکارڈر، دفتر خارجہ پاکستان

