مرکزی مواد پر جائیں
جمعرات، 22 اکتوبر 2026

روزنامہ فرض کراچی

کراچی، پاکستان
اہم خبریں
پاکستان

پاکستان سمیت چار ممالک کے درمیان دفاعی صنعت کا ‘بدر’ معاہدہ طے پا گیا

دوحہ — 21 اکتوبر 2026ء۔ پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا نے دفاعی صنعت کے شعبے میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک یادداشت مفاہمت (ایم او یو) پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو “بدر” کا نام دیا گیا ہے جس کے معنی “پورا چاند” کے ہیں۔ یادداشت مفاہمت پر دستخط قطری دارالحکومت دوحہ میں بدھ کے روز ہوئے۔

ترکیہ کی وزارت دفاع کے مطابق معاہدے پر ترکیہ کے وزیر دفاع یشار گولر، قطر کے نائب وزیر اعظم اور وزیر مملکت برائے دفاع شیخ سعود بن عبدالرحمن بن حسن الثانی، انڈونیشیا کے نائب وزیر دفاع یوسف جوہری اور پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے دستخط کیے۔ دستخط کی تقریب میں ترکیہ کی صدارتِ دفاعی صنعت کے سربراہ حلق گورگن بھی موجود تھے۔

معاہدے کا مقصد چاروں ممالک کے درمیان دفاعی پیداوار میں تعاون کو بڑھانا، ان کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا اور تکنیکی فوجی تربیت کے ساتھ ساتھ تحقیق و ترقی کے شعبوں میں اشتراک کو فروغ دینا ہے۔ ترکیہ کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یہ پیش قدمی جدید دفاعی نظاموں کے تقاضوں سے ہم آہنگ حل اور صنعتی شعبے تیار کرنے میں معاون ہوگی۔

معاہدے کی معاشی اہمیت بھی اجاگر کی گئی ہے۔ وزارت دفاع کے بیان کے مطابق چاروں ممالک اپنی دفاعی پیداواری صلاحیتوں کو یکجا کریں گے، انضمام کو بہتر بنائیں گے اور اپنی دفاعی صنعتوں کو اس قابل بنائیں گے کہ وہ اتحادی اور دوست ممالک کی ضروریات پوری کر سکیں۔ توقع ہے کہ یہ معاہدہ شریک ممالک کے درمیان فوجی تعاون کو وسعت دے گا اور سلامتی، استحکام اور مشترکہ اہداف کے حصول میں کردار ادا کرے گا۔

دفاعی امور کے تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدہ خلیج سے جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا تک دفاعی و سلامتی تعاون کے ایک مربوط نیٹ ورک کے ابھرنے کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو کسی واحد رسمی اتحاد سے زیادہ وسیع نوعیت کا ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ برسوں میں خطے کے ممالک اپنی دفاعی شراکت داریوں میں تنوع لانے اور بیرونی سپلائرز پر انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم اس کا مطلب پرانے اتحادیوں سے دوری نہیں بلکہ اپنی سلامتی پر زیادہ اختیار حاصل کرنا ہے۔

یہ معاہدہ ایسے وقت میں طے پایا ہے جب چاروں ممالک پہلے سے ترکیہ کے ساتھ الگ الگ دفاعی صنعتی منصوبوں میں شریک ہیں۔ پاکستان اور ترکیہ مل جم بحری منصوبے کے تحت چار جنگی جہاز بنا رہے ہیں جن میں سے دو استنبول اور دو کراچی شپ یارڈ میں تیار ہو رہے ہیں، جبکہ انڈونیشیا کے ساتھ ترکیہ مشترکہ طور پر ٹینک تیار کر رہا ہے۔ رواں برس اگست میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی کیا تھا۔

ذرائع: الجزیرہ، ٹی آر ٹی ورلڈ، رائٹرز