کراچی: سندھ کابینہ نے نوجوان تاجر میر رضا علی کے قتل کی تحقیقات اور تفتیش میں ممکنہ غفلت کی جانچ کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر لانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
منگل کو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ کے ترجمان کے جاری کردہ بیان کے مطابق جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ سات سیل بند لفافوں میں پیش کی گئی تھی، اور اسے صوبائی محکمہ داخلہ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا جائے گا، جبکہ رپورٹ کی ایک نقل متاثرہ خاندان کو بھی فراہم کی جائے گی۔
کابینہ نے رپورٹ پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ایک چار رکنی ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے، جس میں وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ، وزیر محنت سعید غنی اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ شامل ہیں۔
سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم اس کمیشن نے پندرہ سماعتوں کے دوران انچاس گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے تھے۔ کمیشن گزشتہ ہفتے اپنی رپورٹ صوبائی حکومت کو پیش کر چکا تھا۔ صوبائی حکومت نے اگست میں کمیشن قائم کیا تھا اور اسے اپنی سفارشات تیس دن کے اندر پیش کرنا تھیں، تاہم بعد ازاں حکومت نے کمیشن کی مدت میں پندرہ اکتوبر تک توسیع دی تھی۔
رپورٹ اور متعلقہ ریکارڈ کمیشن کے رجسٹرار عبدالمجید نے سندھ ہائی کورٹ کے احاطے میں ایڈیشنل سیکریٹری محکمہ داخلہ جاوید احمد ابرو کو پیش کیا تھا، جو صوبائی حکومت کے فوکل پرسن ہیں۔ جاوید احمد ابرو کا کہنا تھا کہ سیل بند رپورٹ حکومت کو پیش کی جائے گی اور اسے منظر عام پر لانے یا نہ لانے کا فیصلہ صوبائی حکومت کرے گی۔
واضح رہے کہ پچیس سالہ میر رضا علی اٹھائیس جولائی کو پی ای سی ایچ ایس میں اپنے گھر سے نکلنے کے بعد لاپتا ہو گئے تھے اور اگلے روز ان کی لاش گلستان جوہر کے علاقے میں جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔ ابتدا میں پولیس نے پہلے پوسٹ مارٹم کی بنیاد پر کیس خودکشی قرار دیا تھا، تاہم پولیس سرجن ڈاکٹر ثمیہ سید نے پہلے پوسٹ مارٹم کے نتائج سے اختلاف کیا تھا۔ بعد ازاں دوسرے پوسٹ مارٹم کے بعد کیس میں قتل کی دفعات شامل کی گئیں۔
دوسری جانب مقتول کے والد نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے اور رپورٹ کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کے کیس کی تفتیش میں پولیس نے غفلت برتی اور جوڈیشل کمیشن کی کارروائی نے ان کے خدشات کو درست ثابت کیا ہے۔
ذرائع: ڈان، اے آر وائی نیوز، ایکسپریس ٹریبیون

