مرکزی مواد پر جائیں
جمعہ، 23 اکتوبر 2026

روزنامہ فرض کراچی

کراچی، پاکستان
اہم خبریں
کراچی

میر رضا قتل کیس میں جے آئی ٹی بنانے کا اعلان؛ ڈی آئی جی عرفان بلوچ سربراہ ہوں گے

کراچی، 23 اکتوبر 2026ء — وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے اعلان کیا ہے کہ نوجوان تاجر میر رضا علی کے قتل کیس کی مزید تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی جائے گی، جو ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ کی سربراہی میں کام کرے گی۔ ٹیم کی تشکیل کی سمری منظوری کے لیے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو بھجوائی گئی ہے۔

جمعرات کو کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ جے آئی ٹی جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کے مطابق بنائی جا رہی ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس کی سربراہی میں قائم کمیشن نے پندرہ اکتوبر کو صوبائی حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی، جس میں ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کی تجویز دی گئی تھی۔ کمیشن کا موقف تھا کہ عوام کا پولیس پر اعتماد بحال کرنے کے لیے نئے سرے سے جامع اور غیر جانب دار تحقیقات ضروری ہیں۔

کمیشن نے یہ بھی تجویز دی تھی کہ ٹیم میں حساس اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سینئر نمائندے شامل ہوں تاکہ تحقیقات کا دائرہ مکمل ہو۔ پاکستان ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق تجویز کردہ ٹیم میں انٹیلی جنس بیورو، آئی ایس آئی، پاکستان رینجرز سندھ اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے نمائندوں کو شامل کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ جے آئی ٹی کی تشکیل کا باضابطہ نوٹیفکیشن ابھی جاری نہیں ہوا۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ انھوں نے وزیراعلیٰ کو اپنی سفارشات میں یہ تجویز بھی دی ہے کہ ٹیم کے ٹرمز آف ریفرنس میں تحقیقات مکمل ہونے پر چالان پیش کرنا شامل ہو۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ کو قبول کرنا یا نہ کرنا عدالت کا صوابدیدی اختیار ہوگا، اور یہ عدالت ہی طے کرے گی کہ یہ کیس قتل کا ہے یا خودکشی کا۔

دوسری جانب وزیر داخلہ نے اعلان کیا کہ تحقیقات میں غفلت کے مرتکب پولیس افسران کے خلاف کارروائی کے لیے ڈی آئی جی ذوالفقار علی لاریک کی سربراہی میں ایک علیحدہ کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے، جو جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں کارروائی کرے گی۔ اے آر وائی نیوز کے مطابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ میر رضا کا خاندان کمیشن کی سفارشات اور نتائج سے مطمئن ہے۔

یہ اعلان صوبائی کابینہ کی ذیلی کمیٹی کے اس اجلاس کے بعد سامنے آیا جس میں جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر غور کیا گیا۔ اس اجلاس کی صدارت وزیر داخلہ نے ہی کی تھی، جو ذیلی کمیٹی کے کنوینر بھی ہیں۔ اس سے قبل بدھ کو وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے بھی ذیلی کمیٹی کو ہدایت کی تھی کہ کمیشن کی تمام سفارشات پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

واضح رہے کہ پچیس سالہ میر رضا علی اٹھائیس جولائی کو پی ای سی ایچ ایس میں اپنے گھر سے نکلنے کے بعد لاپتا ہو گئے تھے اور اگلے روز ان کی لاش گلستان جوہر کے علاقے میں جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔ پولیس نے ابتدا میں پہلے پوسٹ مارٹم کی بنیاد پر موت کو خودکشی قرار دیا تھا، تاہم پولیس سرجن نے اس نتیجے سے اختلاف کیا۔ دوسرے پوسٹ مارٹم میں گولی کا زخم پیٹھ کی جانب سے آنے کی تصدیق ہوئی، جس کے بعد کیس میں قتل کی دفعات شامل کی گئیں۔

ذرائع: ڈان، اے آر وائی نیوز، پاکستان ٹوڈے، آج نیوز۔