گوادر — 23 اکتوبر 2026ء: سیکیورٹی فورسز نے جمعرات کو بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں ایک کنسٹرکشن کمپنی کے خالی کیمپ پر دہشت گردوں کے حملے کی کوشش ناکام بنا دی۔
کارروائی کے دوران تین دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے جبکہ متعدد مشتبہ دہشت گردوں کو گھیر لیا گیا۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق دہشت گردوں کا تعلق فتنہ الہندوستان سے ہے۔ حملے کا نشانہ بننے والا کیمپ خالی تھا، اس لیے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
تاہم حملہ آوروں نے قریبی سڑک پر کھڑے متعدد ٹرکوں کو آگ لگا دی۔
حکام کا کہنا ہے کہ فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کو گھیرے میں لے لیا۔
تین دہشت گرد ہلاک کیے گئے جبکہ دیگر کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا۔
اس کے علاوہ گوادر ہائی وے کے قریب ایک ہوٹل میں چھپے دہشت گردوں کے خلاف الگ آپریشن کیا گیا، جہاں مزید چار مشتبہ افراد کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گوادر کے جنرل آفیسر کمانڈنگ خود موقع پر موجود ہیں اور آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔
گوادر انتظامیہ اور پولیس نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر زیر گردش خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔
بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور متعلقہ اداروں کی بروقت کارروائی کے بعد بی پی-250 علاقے اور گرد و نواح میں امن و امان کی صورتحال قابو میں ہے۔
پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ غیر مصدقہ خبروں پر کان نہ دھریں اور صرف پولیس اور متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے جاری مستند معلومات پر اعتماد کریں۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دہشت گرد حملے کی کوشش ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فورسز نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کو ہلاک کیا اور قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔
جمعہ کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اب تک مجموعی طور پر سات دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ علاقے کو مکمل طور پر کلیئر کرنے تک آپریشن جاری رہے گا۔
ذرائع: ڈان، بزنس ریکارڈر، آج انگلش، سما ٹی وی، ایکسپریس ٹریبیون

