تھرپارکر — سندھ کے ضلع تھرپارکر میں ایک ایمبولینس کے آکسیجن سلنڈر میں دھماکے اور آگ لگنے سے 10 افراد جاں بحق اور 4 زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ افسوسناک واقعہ جمعرات 29 اکتوبر کو نگرپارکر کے گاؤں ڈانو ڈھانڈل میں پیش آیا، جہاں بنیادی صحت مرکز (بی ایچ یو پلس) میں کھڑی پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو (پی پی ایچ آئی) کی ایمبولینس میں آکسیجن سلنڈر تبدیل کیا جا رہا تھا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق سلنڈر تبدیل کرنے کے دوران اچانک دھماکا ہوا اور آگ بھڑک اٹھی، جس نے ایمبولینس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ اتنی شدید تھی کہ ایمبولینس مکمل طور پر جل کر تباہ ہو گئی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں اور فائر بریگیڈ کا عملہ جائے وقوعہ پر پہنچ گیا اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے سول اسپتال مٹھی منتقل کر دیا گیا، جہاں ایک شدید زخمی شخص راستے میں دم توڑ گیا، جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 10 ہو گئی۔
جاں بحق ہونے والوں میں ایک حاملہ خاتون، ان کے تیماردار اور صحت مرکز کے عملے کے ارکان شامل ہیں۔ حکام کے مطابق متاثرین میں مریض، طبی عملہ اور ان کے لواحقین بھی شامل تھے، جبکہ زخمیوں میں ایک نومولود بچہ بھی بتایا گیا ہے۔ ڈسٹرکٹ پولیس چیف عارف عزیز نے تصدیق کی ہے کہ دھماکا رات گئے تھرپارکر میں ایک سرکاری طبی مرکز میں کھڑی ایمبولینس میں ہوا۔ مقامی پولیس افسر خلیل ابڑو کے مطابق اس وقت مریضوں کو دوسرے اسپتال منتقل کرنے کی تیاری کی جا رہی تھی۔
واقعے پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کی ہے۔ صدر نے حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا اور زور دیا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات کو مؤثر بنایا جائے۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔ وزیراعلیٰ نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے اور تمام سرکاری ایمبولینسوں میں حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے کا حکم دیا ہے۔ جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے فی کس 20 لاکھ روپے معاوضے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ سندھ کے وزیر داخلہ و قانون ضیاء الحسن لنجار نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کی اصل وجہ کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور برآمد شدہ شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس وقت تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ سلنڈر میں دھماکا کس خرابی کے باعث ہوا۔ متاثرہ خاندانوں اور علاقے میں واقعے کے بعد سوگ کی فضا ہے۔
ذرائع: ایسوسی ایٹڈ پریس/عرب نیوز، ایکسپریس اردو، آج نیوز، اردو پوائنٹ/این این آئی، جی ٹی وی نیوز۔

