کراچی — نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے شاہراہ فیصل پر قائم ایک مبینہ غیر قانونی کال سینٹر پر چھاپہ مار کر 47 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق یہ کال سینٹر غیر ملکی شہریوں کو دھوکہ دہی کے ذریعے ان کی بینکنگ معلومات حاصل کر کے مالی فراڈ میں ملوث تھا۔
این سی سی آئی اے کے ترجمان کے مطابق چھاپہ بدھ کے روز ٹیکنالوجی پارک کی چوتھی منزل پر مارا گیا، جہاں یہ مرکز “اعزان انٹرپرائزز” کے نام سے کام کر رہا تھا۔ کارروائی کے دوران 47 ملزمان کو حراست میں لیا گیا، جبکہ پانچ ملزمان تاحال مفرور ہیں۔ مجموعی طور پر 52 ملزمان کے خلاف پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ایجنسی کا کہنا ہے کہ ملزمان مبینہ طور پر غیر ملکی شہریوں کو دھوکہ دہی پر مبنی کالیں کر کے ان کی بینکنگ معلومات حاصل کرتے اور پھر اس ڈیٹا کو مالی فراڈ کے لیے استعمال کرتے تھے۔ چھاپے کے دوران مرکز سے 50 لیپ ٹاپ، 26 موبائل فون، ایک ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر، دیگر ڈیجیٹل آلات اور متعلقہ دستاویزات برآمد کی گئیں۔
گرفتار ملزمان کو تفتیشی افسر امیر علی نے جوڈیشل مجسٹریٹ (ایسٹ) گلریز میمن کی عدالت میں پیش کیا۔ تفتیشی افسر نے اسپوفنگ اور کریڈٹ کارڈ ڈیٹا چوری کے مقدمے میں ملزمان کے 14 روزہ ریمانڈ کی استدعا کی، تاکہ کال سینٹر کے کام کرنے کے طریقہ کار، اس کے مالی ذرائع اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے بارے میں تفتیش کی جا سکے۔ عدالت نے ملزمان کو تین روز کے لیے این سی سی آئی اے کی تحویل میں دے دیا۔
یہ کارروائی ملک بھر میں غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔ اسی روز لاہور میں تین غیر قانونی کال سینٹرز پر چھاپوں میں 42 ملزمان گرفتار کیے گئے، جن پر الزام ہے کہ وہ جعلی ٹیلی کام پیکجز اور موبائل اپ گریڈ کی پیشکش کے ذریعے غیر ملکی شہریوں کو لوٹتے تھے۔ لاہور سے 67 لیپ ٹاپ، 50 موبائل فون اور ایک ڈیسک ٹاپ برآمد ہوا۔ دونوں شہروں کی کارروائیوں میں مجموعی طور پر 89 ملزمان گرفتار اور 117 لیپ ٹاپ، 76 موبائل فون اور دو ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر ضبط کیے گئے۔
این سی سی آئی اے کے مطابق برآمد شدہ آلات کا فرانزک معائنہ کیا جائے گا اور مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔ واضح رہے کہ گرفتار ملزمان کے خلاف تاحال الزامات عائد کیے گئے ہیں اور معاملہ تفتیش و عدالتی کارروائی کے مراحل میں ہے۔
ذرائع: ڈان، دی نیشن، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان/اردو پوائنٹ، ٹیک جوائس۔

