مرکزی مواد پر جائیں
بدھ، 28 اکتوبر 2026

روزنامہ فرض کراچی

کراچی، پاکستان
اہم خبریں
کراچی

کراچی میں دو بھائیوں کے اغوا برائے تاوان کیس میں دو ملزمان کو سزائے موت

کراچی، 28 اکتوبر 2026ء — کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے دو نوجوان بھائیوں کو اغوا کر کے تاوان طلب کرنے کے مقدمے میں دو ملزمان کو دو دو بار سزائے موت سنا دی ہے۔ عدالت نے منگل کے روز یہ فیصلہ سنایا، جس کے بعد یہ مقدمہ تین سال کی کارروائی کے بعد اپنے انجام کو پہنچا۔

عدالت کے فیصلے کے مطابق ملزمان ریاض احمد اور اعجاز احمد عرف ساجد نے اکتوبر 2023 میں دونوں بھائیوں کو ملازمت کا جھانسا دیا تھا۔ انہوں نے سکھر میں مصالحہ جات کی ایک فیکٹری میں ملازمت دلانے کا وعدہ کیا، جس کے لیے ماہانہ تنخواہ پچیس ہزار سے بتیس ہزار روپے تک بتائی گئی۔ والد کے اعتماد پر دونوں بھائی ان کے ساتھ روانہ ہو گئے، لیکن ملزمان نے انہیں ملازمت دینے کے بجائے اغوا کر لیا۔

استغاثہ کے مطابق ملزمان دونوں بھائیوں کو کچے کے علاقے میں لے گئے، جہاں انہیں باندھ کر قید میں رکھا گیا۔ بعد ازاں ملزمان نے اہل خانہ سے ساٹھ لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا اور رقم نہ ملنے پر بھائیوں کو قتل کرنے کی دھمکیاں دیں۔ تقریباً ایک ماہ تک جاری رہنے والی بات چیت کے بعد ملزمان پانچ لاکھ روپے پر رضامند ہوئے اور دونوں بھائیوں کو کراچی میں ایک مکان میں منتقل کر دیا۔

پولیس کو جب ان کی موجودگی کی اطلاع ملی تو اس نے مکان پر چھاپہ مارا۔ کارروائی کے دوران فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا، جس کے بعد پولیس نے دونوں ملزمان کو گرفتار کر کے مغوی بھائیوں کو بازیاب کرا لیا۔ عدالت نے ملزمان کو پولیس پر فائرنگ کرنے اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزامات میں بھی مجرم قرار دیا اور ان جرائم پر مزید قید کی سزائیں بھی سنائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عدالت نے ملزمان پر جرمانے عائد کیے اور متاثرہ بھائیوں کو معاوضہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ نے اپنے الزامات معقول شک سے بالاتر ہو کر ثابت کیے۔ عدالت نے دونوں ملزمان کو اغوا برائے تاوان اور دہشت گردی کے الزامات میں دو دو بار سزائے موت سنائی۔ تاہم یہ سزائے موت حتمی نہیں ہیں — قانون کے تحت ان کی توثیق سندھ ہائی کورٹ سے ہونا لازم ہے، اور اس توثیق کے بغیر سزاؤں پر عمل درآمد نہیں ہو سکے گا۔

یہ مقدمہ اس لیے بھی توجہ کا مرکز بنا رہا کہ ملزمان نے نوجوانوں کو روزگار کی امید دلا کر اپنے جال میں پھنسایا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مقدمات میں سخت سزائیں اس پیغام کو مضبوط کرتی ہیں کہ معصوم نوجوانوں کو دھوکے سے اغوا کرنا سنگین جرم ہے، جس کی کوئی رعایت نہیں ہوگی۔ دوسری جانب سزائے موت کی توثیق کا مرحلہ اب سندھ ہائی کورٹ میں طے ہوگا، جہاں مقدمے کا مکمل ریکارڈ اور شواہد دوبارہ جانچے جائیں گے۔

(یہ تصویر علامتی ہے۔)

ذرائع: ڈان، دی نیوز، اردو پوائنٹ