کراچی — کراچی میں مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمت میں ایک اور تیز اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد شہر کی مارکیٹ میں ایل پی جی 550 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ قیمت صرف ایک دن میں 50 روپے بڑھی ہے، اور یہ سرکاری طور پر مقرر کردہ نرخ سے تقریباً دگنی ہے، جس سے ان گھرانوں پر بوجھ مزید بڑھ گیا ہے جو کھانا پکانے کے لیے سلنڈر گیس پر انحصار کرتے ہیں۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق قیمتوں میں اس اضافے کی بنیادی وجہ ایرانی ایل پی جی کی سپلائی میں خلل ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران سے ایل پی جی کی ترسیل کراچی کی مارکیٹوں تک نہیں پہنچ پا رہی، جس سے قلت پیدا ہوئی ہے۔ مارکیٹ ذرائع نے الزام لگایا ہے کہ اس قلت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مقامی مارکیٹنگ کمپنیاں اپنی صوابدید پر قیمتیں بڑھا رہی ہیں، جس کے باعث صارفین کو مہنگی مقامی سپلائی خریدنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔
دکانداروں کا کہنا ہے کہ مارکیٹنگ کمپنیاں مہنگے نرخوں پر ایل پی جی فراہم کر رہی ہیں، جس سے ان کا کاروبار شدید متاثر ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق قیمتوں میں تازہ اضافے کے بعد فروخت میں 50 فیصد تک کمی آئی ہے، کیونکہ صارفین کی قوت خرید جواب دینے لگی ہے۔
صارفین کا کہنا ہے کہ ان کے گھروں میں پائپ لائن کے ذریعے قدرتی گیس موجود نہیں، اس لیے مہنگی ایل پی جی خریدنا ان کی مجبوری بن گیا ہے۔ کھانا پکانے کی گیس کی بڑھتی قیمت سے گھریلو بجٹ پر دباؤ بڑھ رہا ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کے اثرات ٹرانسپورٹ کرایوں، تندور کی روٹی اور بیکری مصنوعات کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
اسی روز آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے نومبر کے لیے ایل پی جی کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا ہے۔ اس نوٹیفکیشن کے مطابق ایل پی جی کی قیمت میں 14 روپے 73 پیسے فی کلو اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد سرکاری نرخ 294 روپے 70 پیسے فی کلو مقرر ہوا ہے، جبکہ گھریلو سلنڈر کی قیمت 173 روپے 86 پیسے بڑھ کر 3 ہزار 470 روپے 90 پیسے ہو گئی ہے۔ واضح رہے کہ اکتوبر کے لیے اوگرا کا مقرر کردہ نرخ 279 روپے 34 پیسے فی کلو تھا، اور مارکیٹ میں 550 روپے کی قیمت اس سرکاری نرخ سے بھی تقریباً دگنی ہے۔
ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر نے کہا ہے کہ ایل پی جی کمپنیاں مہنگے نرخ وصول کر رہی ہیں اور بڑھتی طلب کو غیر قانونی منافع خوری کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ملک بھر سے ایل پی جی 500 سے 600 روپے فی کلو میں فروخت ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مبینہ بلیک مارکیٹنگ کے خلاف کارروائی کی جائے اور ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے، کیونکہ جب تک حکومتی نرخوں پر عملدرآمد نہیں ہوگا، مارکیٹ مستحکم نہیں ہو سکتی۔
مارکیٹ ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی سپلائی معمول پر نہ آئی اور قیمتوں کی نگرانی مؤثر نہ ہوئی تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ سردیاں قریب آنے کے ساتھ کراچی کو گیس کی قلت میں اضافے اور قیمتوں میں ایک اور اضافے کے امکان کا سامنا ہے، جس سے گھریلو صارفین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
ذرائع: ایکسپریس ٹریبیون، اے آر وائی نیوز، ڈائیلاگ پاکستان

