مرکزی مواد پر جائیں
ہفتہ، 31 اکتوبر 2026

روزنامہ فرض کراچی

کراچی، پاکستان
اہم خبریں
کراچی

کراچی میں 740 خطرناک عمارتیں بدستور قائم، آڈٹ رپورٹ میں ایس بی سی اے کی کارکردگی پر سوالات

کراچی — آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھا دیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کراچی میں خطرناک قرار دی گئی 740 عمارتیں تاحال مسمار نہیں کی جا سکیں، جبکہ ان عمارتوں کو گرانے کے ٹھیکے ایسے ٹھیکیداروں کو دیے گئے جن کے پاس مطلوبہ مشینری اور فنی مہارت موجود نہیں تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خطرناک عمارتوں کی مسماری کا کام ایسے ہاتھوں میں دیا گیا جو اس کام کے لیے درکار ساز و سامان اور تکنیکی صلاحیت سے محروم تھے، جس سے نہ صرف مسماری کا عمل متاثر ہوا بلکہ شہریوں کی جان و مال کو لاحق خطرات بھی برقرار رہے۔

آڈٹ رپورٹ نے تعمیراتی اجازت ناموں کے لیے متعارف کرائے گئے سنگل ونڈو نظام کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ اس نظام کا مقصد اجازت ناموں کے اجرا کو تیز اور آسان بنانا تھا، لیکن رپورٹ کے مطابق اس سہولت کے باوجود تعمیراتی اجازت نامے جاری کرنے میں اوسطاً 50.85 دن لگے، جبکہ دستی نظام کے تحت 2019 میں یہی اجازت نامے اوسطاً 14 دن میں جاری کر دیے جاتے تھے۔ یوں جدید نظام پرانے دستی طریقے سے بھی سست ثابت ہوا۔

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ بعض تعمیراتی اجازت نامے فروخت اور تشہیر کے لیے لازمی این او سی حاصل کیے بغیر جاری کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق اس سے ان عمارتوں میں یونٹ خریدنے والے شہریوں کو قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ مطلوبہ کلیئرنس کے بغیر فروخت کیے گئے یونٹوں کی قانونی حیثیت مشکوک ہو سکتی ہے۔

یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ کراچی میں مخدوش عمارتوں کے گرنے کے واقعات ماضی میں قیمتی جانوں کے ضیاع کا باعث بن چکے ہیں۔ رواں برس جولائی میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں بھی ایس بی سی اے کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ سندھ بھر میں 741 عمارتیں خطرناک قرار دی گئی ہیں، جن میں 588 کراچی میں واقع ہیں اور ان میں 444 تاریخی ورثے کی عمارتیں شامل ہیں۔ اس وقت بتایا گیا تھا کہ 59 عمارتوں کو خالی کرایا جا چکا ہے اور 39 کی مسماری کی منظوری دی گئی تھی، جبکہ کئی مکین متبادل رہائش ملنے تک عمارتیں خالی کرنے سے انکار کر رہے تھے۔

آڈٹ رپورٹ میں ایس بی سی اے کے مالیاتی امور اور عمارتوں کے کنٹرول سے متعلق متعدد دیگر بے ضابطگیوں اور خامیوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جس سے شہر میں عمارتوں کی حفاظت کے نظام کی مؤثریت پر سوال کھڑا ہوتا ہے۔

ذرائع: ایکسپریس ٹریبیون، ایکسپریس اردو، ڈان نیوز