کراچی، 30 اکتوبر 2026ء — وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی سیف سٹی منصوبے کے دوسرے مرحلے کے لیے چینی ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے سے مذاکرات آخری مرحلے میں پہنچ گئے ہیں اور اس منصوبے پر جلد کام شروع ہونے کی توقع ہے۔ وزیراعلیٰ نے یہ بات جمعرات کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں چین کے قونصل جنرل فینگ ڈیہینگ سے ملاقات کے دوران کہی۔
ملاقات میں وزیراعلیٰ کے معاونِ خصوصی سید قاسم نوید اور پرنسپل سیکرٹری آغا واصف بھی شریک تھے۔ ملاقات کا بنیادی موضوع ان حکومتی سطح کے معاہدوں کو حتمی شکل دینا تھا جو وزیراعلیٰ کے حالیہ دورۂ چین کے دوران سندھ حکومت اور چینی کمپنیوں کے درمیان طے پائے تھے۔ دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں مشترکہ ورکنگ گروپس قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا تاکہ ان معاہدوں پر عملدرآمد میں آسانی ہو۔ چینی قونصل جنرل نے شنگھائی میں سندھ سرمایہ کاری کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر وزیراعلیٰ کو مبارک باد بھی دی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر ہے اور اسے جدید سکیورٹی اور نگرانی کے نظام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اپنے حالیہ دورۂ چین کے دوران انہوں نے ہواوے کا سیف سٹی نظام خود دیکھا تھا، اور سندھ حکومت کا مقصد کراچی میں ایک جدید ترین سیف سٹی نظام قائم کرنا ہے جس میں ایک جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر بھی شامل ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ تعاون مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔
منصوبے کے دوسرے مرحلے میں شہر بھر میں دو ہزار تین سو سے زائد اسمارٹ کیمرے نصب کیے جائیں گے۔ ان میں 870 کیمرے عمومی نگرانی کے لیے ہوں گے، ایک ہزار تین سو کیمرے خودکار نمبر پلیٹ کی شناخت اور چہرے کی شناخت کی صلاحیت سے لیس ہوں گے، جبکہ 80 کیمرے ٹریفک کے نفاذ کے لیے استعمال ہوں گے۔ اس کے علاوہ موبائل نگرانی کے یونٹس اور ٹریفک سگنل کی نگرانی کے کیمرے بھی اس منصوبے کا حصہ ہیں۔ مکمل ہونے پر تمام مراحل کے تحت شہر میں تقریباً دس ہزار کیمرے دو ہزار سے زائد مقامات پر نصب ہو جائیں گے۔
یاد رہے کہ اس دوسرے مرحلے کی منظوری رواں سال اپریل میں دی گئی تھی۔ منظوری کے وقت بتایا گیا تھا کہ منصوبے کی مجموعی لاگت تقریباً 9.98 ارب روپے ہوگی اور اس کی تکمیل میں تقریباً بارہ ماہ لگیں گے۔ اس منصوبے میں شمسی توانائی اور جنریٹر بیک اپ کے ساتھ نو پوائنٹس آف پریزنس، ایک اسمارٹ سرویلنس ٹاور، عوام کے لیے پچاس پینک بٹن، کیمروں سے لیس آٹھ رسپانس گاڑیاں اور دس سرویلنس ڈرون بھی شامل ہیں۔
سیف سٹی منصوبے کا مقصد شہر میں سکیورٹی اور نگرانی کو بہتر بنانا، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت بڑھانا اور ٹریفک کے نظام و ہنگامی صورتحال سے نمٹنے میں مدد کرنا ہے۔ ہواوے سے مذاکرات کی تکمیل کے بعد اس منصوبے پر عملی کام شروع ہونے کی راہ ہموار ہو جائے گی، جس سے کراچی کے شہریوں کو ایک محفوظ اور جدید نگرانی کے نظام کی سہولت ملنے کی امید ہے۔
ذرائع: ڈان، دی نیوز، بزنس ریکارڈر، اردو پوائنٹ (اے پی پی)

