کراچی، 29 اکتوبر 2026ء — اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے۔ مرکزی بینک کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ ہفتہ وار اعداد و شمار کے مطابق 23 اکتوبر 2026ء کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک کے ذخائر 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر بڑھ کر 21 ارب 52 کروڑ 17 لاکھ ڈالر (21.522 ارب ڈالر) تک پہنچ گئے۔
اس سے قبل 16 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر 21 ارب 48 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تھے، جن میں اس وقت 1 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا تھا۔ اس طرح مرکزی بینک کے ذخائر میں مسلسل تیسرے ہفتے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے؛ 9 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں بھی ذخائر 1 کروڑ 60 لاکھ ڈالر بڑھے تھے۔
تاہم ملک کے مجموعی مائع زرمبادلہ ذخائر میں اس ہفتے کمی آئی ہے۔ مجموعی ذخائر 26 ارب 75 کروڑ 42 لاکھ ڈالر (26.754 ارب ڈالر) رہے، جو پچھلے ہفتے کے 26 ارب 83 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سے تقریباً 7 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کم ہیں۔ اس کمی کی وجہ کمرشل بینکوں کے پاس موجود ذخائر میں آنے والی کمی ہے، جو تقریباً 11 کروڑ 20 لاکھ ڈالر گھٹ کر 5 ارب 23 کروڑ 25 لاکھ ڈالر رہ گئے، جبکہ ایک ہفتہ قبل یہ 5 ارب 34 کروڑ 44 لاکھ ڈالر تھے۔ یوں مرکزی بینک کے ذخائر میں اضافے کے باوجود کمرشل بینکوں کے ذخائر میں کمی نے مجموعی ذخائر کو نیچے دھکیل دیا۔
زرمبادلہ ذخائر کسی ملک کے مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی کرنسی کے وہ اثاثے ہوتے ہیں جنہیں بیرونی ادائیگیوں، درآمدات کی ادائیگی اور کرنسی کے استحکام کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کی سطح کو معیشت کی بیرونی ادائیگی کی صلاحیت کا ایک اہم اشارہ سمجھا جاتا ہے، اس لیے ہر ہفتے جاری ہونے والے اعداد و شمار پر کاروباری حلقوں اور معاشی ماہرین کی گہری نظر رہتی ہے۔
ماہرین کے نزدیک ذخائر کی اصل تصویر کسی ایک ہفتے کے اعداد سے نہیں بلکہ کئی ہفتوں کے رجحان سے سامنے آتی ہے۔ ہفتہ وار اتار چڑھاؤ معمول کی بات ہے، کیونکہ یہ ذخائر بیرونی آمد و ادائیگی کے بہاؤ کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ تاہم مرکزی بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافے کا رجحان بیرونی ادائیگیوں کی پوزیشن کے لیے مثبت اشارہ سمجھا جاتا ہے۔ اسٹیٹ بینک ہر ہفتے ذخائر کے اعداد جاری کرتا ہے، جن میں مرکزی بینک اور کمرشل بینکوں کے ذخائر کی الگ الگ تفصیل دی جاتی ہے۔
ذرائع: بزنس ریکارڈر، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان/اردو پوائنٹ، پاکستان آبزرور۔

