مرکزی مواد پر جائیں
اتوار، 1 نومبر 2026

روزنامہ فرض کراچی

کراچی، پاکستان
اہم خبریں
کھیل

فخر زمان کی سنچری، پاکستان نے سری لنکا کو ہرا کر ٹرائی سیریز جیت لی

لاہور، یکم نومبر 2026ء — پاکستان نے ہفتہ کی شب لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے ایک روزہ ٹرائی سیریز کے فائنل میں سری لنکا کو تین وکٹوں سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔ سری لنکا کے 326 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان نے 48.3 اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر 331 رنز بنائے اور نو گیندیں باقی رہتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔

سری لنکا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے آٹھ وکٹوں پر 325 رنز بنائے تھے۔ کمنڈو مینڈس نے 128 گیندوں پر 131 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، جو ان کی ایک روزہ کرکٹ میں پہلی سنچری تھی، جب کہ پون رتھنائیکے نے 65 گیندوں پر 77 رنز بنائے۔ دونوں کے درمیان 146 رنز کی شراکت نے سری لنکا کو ایک بڑا مجموعہ بنانے میں مدد دی۔

پاکستان کے تعاقب کی شروعات اچھی نہ رہی اور بابر اعظم بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہو گئے، لیکن فخر زمان نے ذمہ دارانہ بیٹنگ سے میچ کا رخ موڑ دیا۔ انہوں نے 99 گیندوں پر 127 رنز بنائے، جن میں 11 چوکے اور چھ چھکے شامل تھے، اور 84 گیندوں پر اپنی سنچری مکمل کی۔ یہ ان کے کیریئر کی بارہویں ایک روزہ سنچری تھی، اور اسی اننگز کے دوران انہوں نے ایک روزہ کرکٹ میں چار ہزار رنز کا سنگ میل بھی عبور کیا۔

فخر زمان نے نوجوان وکٹ کیپر بیٹر سعد بیگ کے ساتھ تیسری وکٹ پر 149 رنز کی شراکت قائم کی۔ سعد بیگ نے 74 رنز کی اننگز کھیلی، جو ان کی پہلی ایک روزہ نصف سنچری تھی۔ سلمان علی آغا نے 17 رنز بنائے۔ فخر زمان 34ویں اوور میں 220 رنز پر آؤٹ ہوئے، جس کے بعد میچ ایک بار پھر دلچسپ ہو گیا۔

اس موقع پر نوجوان آل راؤنڈر عرفات منہاس نے طوفانی بیٹنگ کی اور صرف 31 گیندوں پر 61 رنز بنا ڈالے، جن میں تین چوکے اور چار چھکے شامل تھے۔ انہوں نے حسن نواز کے ساتھ چھٹی وکٹ پر 65 گیندوں پر 94 رنز کی شراکت بنائی، جس نے سری لنکا کی گرفت ڈھیلی کر دی۔ آخر میں کپتان شاہین شاہ آفریدی نے دلشان مدھوشانکا کو چھکا لگا کر پاکستان کی جیت پر مہر لگائی۔

یہ پاکستان کا 2008 کے بعد پہلا ایک روزہ ٹرائی سیریز ٹائٹل ہے۔ اس سے قبل 2008 میں بنگلہ دیش میں کھیلے گئے کٹپلائی کپ کے فائنل میں پاکستان نے بھارت کو شکست دی تھی۔ ہوم گراؤنڈ پر یہ پاکستان کا پہلا ٹرائی سیریز ٹائٹل ہے۔ اس کے ساتھ ہی 326 رنز کا کامیاب تعاقب ایک روزہ فائنل کی تاریخ میں مشترکہ سب سے بڑا کامیاب تعاقب بھی بن گیا، جو 2002 میں لارڈز میں انگلینڈ کے خلاف بھارت کے 326 رنز کے تعاقب کے برابر ہے۔

فخر زمان کو فائنل کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ ملا، جب کہ عرفات منہاس سیریز کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔ انہوں نے پورے ٹورنامنٹ میں نو وکٹیں حاصل کیں اور 149 رنز بنائے۔ فخر زمان کی یہ ایک روزہ ٹورنامنٹ کے فائنل میں دوسری سنچری تھی؛ اس سے قبل انہوں نے 2017 کی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں بھارت کے خلاف بھی سنچری بنائی تھی۔ اس طرح وہ ٹورنامنٹ فائنلز میں دو سنچریاں بنانے والے پاکستانی بیٹرز میں سعید انور کے برابر آ گئے ہیں۔

یہ کامیابی اس لحاظ سے بھی خاص ہے کہ لیگ مرحلے میں اسی سری لنکا کی ٹیم نے پاکستان کو صرف 110 رنز پر آؤٹ کر دیا تھا۔ فائنل میں شاندار واپسی نے ٹیم کی نئی نسل کی صلاحیت اور بڑے میچوں میں دباؤ برداشت کرنے کی اہلیت کو ظاہر کر دیا ہے۔

ذرائع: ڈان، دی نیوز، ایکسپریس ٹریبیون، جیو نیوز، رائٹرز۔