مرکزی مواد پر جائیں
پیر، 2 نومبر 2026

روزنامہ فرض کراچی

کراچی، پاکستان
اہم خبریں
پاکستان

ڈاکٹروں کی ملک گیر دو روزہ ہڑتال آج سے شروع، ایمرجنسی کے علاوہ تمام خدمات معطل

کراچی، یکم نومبر 2026ء — پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کی کال پر ملک بھر میں ڈاکٹروں کی دو روزہ ہڑتال آج، اتوار سے شروع ہو گئی ہے، جو کل، پیر 2 نومبر تک جاری رہے گی۔ ہڑتال کے دوران سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں ایمرجنسی کے علاوہ معمول کی تمام طبی خدمات معطل رہیں گی، جن میں آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹس (او پی ڈیز)، طے شدہ سرجریز اور معمول کے تشخیصی ٹیسٹ شامل ہیں۔

ہڑتال کا اعلان گزشتہ جمعرات کو کراچی میں پی ایم اے ہاؤس میں ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں کیا گیا تھا، جس میں پی ایم اے کے ساتھ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن، پرائیویٹ ہسپتالز اینڈ کلینکس ایسوسی ایشن اور سوسائٹی آف آبسٹیٹریشنز اینڈ گائناکالوجسٹس کے نمائندے بھی شریک تھے۔ شرکا نے کہا کہ حکومت نے اگر ان کے مطالبات پر توجہ نہ دی تو ملک بھر میں احتجاج کا دائرہ بڑھایا جا سکتا ہے، اور آئندہ لائحہ عمل کا فیصلہ 28 نومبر کو پی ایم اے کی مرکزی کونسل کے اجلاس میں کیا جائے گا۔

ڈاکٹروں کے مطالبات میں سب سے نمایاں نجی کلینکس پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چھاپوں کا فوری خاتمہ ہے۔ پی ایم اے کے صدر ڈاکٹر اظہار احمد چوہدری نے کہا کہ نجی کلینکس اور طبی مشاورت پر ریٹیل کاروبار کی طرز کا پوائنٹ آف سیل نظام نافذ کرنا بنیادی طور پر غلط ہے، کیونکہ کلینک علاج کی جگہ ہے، دکان نہیں، اور طبی مشاورت کو کسی شے کی فروخت کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ طبی مراکز پر جبراً چھاپے اور معزز ڈاکٹروں کے ساتھ ٹیکس چوروں جیسا سلوک خوف کا ماحول پیدا کرتا ہے۔

دوسرا بڑا مطالبہ یہ ہے کہ مبینہ طبی غفلت کے مقدمات میں ڈاکٹروں کے خلاف براہ راست فوجداری مقدمات درج کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ پی ایم اے سینٹر کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عبدالغفور شورو نے کہا کہ علاج کے دوران پیش آنے والی پیچیدگی یا مریض کی طبعی موت کو قتل قرار دینا ناانصافی ہے، اور کسی بھی ڈاکٹر کے خلاف قانونی کارروائی سے پہلے معاملے کا جائزہ ایک مستند اور آزاد میڈیکل بورڈ سے لیا جانا چاہیے۔ ڈاکٹروں نے پارلیمان سے ہیلتھ کیئر پروفیشنلز پروٹیکشن ایکٹ فوری طور پر منظور کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے، تاکہ طبی عملے کو ادارہ جاتی، قانونی اور جسمانی تحفظ حاصل ہو سکے۔

پی ایم اے کے مطابق طبی عملے کو درپیش مسائل نئے نہیں۔ اس سے قبل 30 ستمبر کو بھی ملک بھر میں نجی او پی ڈیز، ہسپتالوں کی مشاورت اور معمول کی تشخیصی خدمات بند کر کے ایف بی آر کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر شورو نے کہا کہ کلینکس پر عائد ہر نئی انتظامی ذمہ داری بالآخر مریضوں کے علاج کی لاگت بڑھاتی ہے، جو پہلے ہی مہنگائی کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔

مریضوں کے لیے اہم بات یہ ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی خدمات بدستور کام کرتی رہیں گی، اس لیے ہنگامی صورت حال میں مریضوں کو طبی امداد ملتی رہے گی۔ تاہم معمول کی اپائنٹمنٹس، طے شدہ آپریشنز اور ٹیسٹ متاثر ہو سکتے ہیں، اس لیے مریضوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ہسپتال یا کلینک جانے سے پہلے اپنے متعلقہ ادارے سے رابطہ کر کے انتظامات کی تصدیق کر لیں۔ مختلف اداروں میں ہڑتال پر عمل درآمد کی سطح مختلف ہو سکتی ہے، اس لیے مقامی صورت حال پہلے معلوم کرنا بہتر ہوگا۔

پی ایم اے بلوچستان نے بھی ملک گیر ہڑتال کی کال کی حمایت کا اعلان کر رکھا ہے۔

ذرائع: ڈان، اردو پوائنٹ (این این آئی)، میڈیکل نیوز