اسلام آباد، 3 نومبر 2026ء — الیکشن کمیشن آف پاکستان نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پاکستان) کو انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے پر شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔ کمیشن نے جماعت سے 14 روز کے اندر وضاحت طلب کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ جواب نہ آنے کی صورت میں قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی۔
رپورٹس کے مطابق یہ نوٹس 26 اکتوبر کو جاری کیا گیا تھا اور منگل کو اس کی تفصیلات سامنے آئیں۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کو انٹرا پارٹی انتخابات کے لیے 15 اکتوبر 2026ء تک کی توسیعی مہلت دی گئی تھی، لیکن جماعت اس مدت کے اندر اپنے اندرونی انتخابات کرانے کی قانونی ذمہ داری پوری نہ کر سکی۔
نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017ء کے تحت ہر سیاسی جماعت کے لیے اپنے عہدیداروں کا باقاعدہ انتخاب کرانا لازمی ہے۔ اسی قانون کے تحت جماعتوں کو انٹرا پارٹی انتخابات مکمل کرنے کے سات روز کے اندر الیکشن کمیشن کو انتخابی سرٹیفکیٹ بھی جمع کرانا ہوتا ہے۔
کمیشن نے اپنے نوٹس میں اس نکتے پر بھی زور دیا ہے کہ انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے والی جماعت آئندہ عام انتخابات کے لیے انتخابی نشان حاصل کرنے کی اہلیت سے محروم ہو سکتی ہے۔ یعنی اگر ایم کیو ایم پاکستان نے مقررہ مدت میں اپنا جواب نہ دیا یا انتخابات نہ کرائے تو اس کا انتخابی نشان روکا جا سکتا ہے، جو جماعت کے لیے ایک سنگین سیاسی اور قانونی نتیجہ ہوگا۔
انٹرا پارٹی انتخابات کسی بھی سیاسی جماعت کے اندرونی جمہوری عمل کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔ ان انتخابات کے ذریعے جماعت کے عہدیداروں کا انتخاب کیا جاتا ہے اور یہ عمل اس بات کی ضمانت سمجھا جاتا ہے کہ جماعت کے فیصلے چند افراد تک محدود نہ رہیں بلکہ کارکنوں اور ارکان کی رائے بھی اس میں شامل ہو۔ یہی وجہ ہے کہ قانون نے اس عمل کو لازمی قرار دیا ہے اور الیکشن کمیشن کو اس کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی ہے۔
یہ نوٹس اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کراچی سمیت سندھ کے شہری علاقوں کی ایک اہم سیاسی جماعت ہے، اور انتخابی نشان کسی بھی جماعت کی انتخابی شناخت ہوتا ہے۔
اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ ایم کیو ایم پاکستان 14 روز کی مہلت میں کیا جواب جمع کراتی ہے اور کیا وہ انٹرا پارٹی انتخابات کا کوئی شیڈول پیش کرتی ہے۔ الیکشن کمیشن نے واضح کر دیا ہے کہ جواب نہ آنے پر قانون کے مطابق مزید کارروائی ہوگی۔
ذرائع: ایکسپریس ٹریبیون، اے آر وائی نیوز، آج نیوز، دنیا نیوز

