اسلام آباد، 2 نومبر 2026ء — پاکستان میں آج پیر سے انسداد پولیو کی ہفتہ بھر جاری رہنے والی ذیلی قومی مہم شروع ہو گئی ہے۔ اس مہم کے دوران ملک کے 97 اضلاع میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف ہے۔ مہم 8 نومبر تک جاری رہے گی، اور اس کے لیے 2 لاکھ سے زیادہ فرنٹ لائن کارکنان کو متحرک کیا گیا ہے، جو گھروں، مقررہ مراکز اور آمد و رفت کے مقامات پر بچوں تک پہنچیں گے۔
یہ مہم ایسے وقت میں شروع ہوئی ہے جب قومی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) نے رواں سال کے آٹھویں پولیو کیس کی تصدیق کی ہے۔ یہ کیس خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ کی یونین کونسل جانباز بی میں 13 ماہ کی ایک بچی میں سامنے آیا ہے۔ یہ ضلع خیبر سے رواں سال کا دوسرا اور صوبے سے چھٹا کیس ہے، جب کہ باقی دو کیس سندھ سے رپورٹ ہوئے ہیں۔ پاکستان پولیو خاتمے کی مہم نے اس کیس کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور وائرس کی منتقلی روکنے کے لیے ہدفی ویکسینیشن سمیت سائنس کی بنیاد پر جواب کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
صوبوں کے لحاظ سے سندھ میں 20 اضلاع میں 68 لاکھ بچوں کو ہدف بنایا گیا ہے؛ سندھ کے سیکریٹری صحت طاہر حسین سانگی نے ہفتے کو کراچی میں مہم کا افتتاح کیا اور والدین سے اپیل کی کہ کوئی بچہ قطرے پلانے سے رہ نہ جائے۔ پنجاب میں 13 اضلاع میں تقریباً 93 لاکھ، خیبر پختونخوا میں 27 اضلاع میں 48 لاکھ سے زیادہ، اور بلوچستان میں 31 اضلاع میں 22 لاکھ سے زیادہ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف ہے؛ بلوچستان میں 8,888 ٹیمیں 658 یونین کونسلوں میں کام کریں گی۔
این ای او سی کے مطابق یہ کیس اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ہر بچے کی ویکسینیشن کتنی ضروری ہے۔ حکام نے والدین سے کہا ہے کہ وہ 2 سے 8 نومبر کی مہم اور اس کے بعد کی مہموں میں بھی اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پولیو کا کوئی علاج نہیں، لیکن بروقت ویکسینیشن سے اس سے بچا جا سکتا ہے، اور معمول کی حفاظتی ٹیکوں کو مضبوط بنانا بھی اس حکمت عملی کا حصہ ہے۔
رواں سال 2026 میں اب تک چار بڑی پولیو مہموں کے ذریعے 4 کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ بچوں کو متعدد بار تحفظ فراہم کیا جا چکا ہے، جب کہ ستمبر کی ذیلی قومی مہم میں 2 کروڑ 93 لاکھ سے زیادہ بچے شامل ہوئے تھے۔ پاکستان اور افغانستان دنیا کے صرف دو ممالک ہیں جہاں جنگلی پولیو وائرس اب بھی مقامی طور پر پھیل رہا ہے، اسی لیے دونوں ممالک میں یہ مہم ایک ساتھ چلائی جا رہی ہے اور سرحد پار رابطے کو بھی مضبوط رکھا گیا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ غلط معلومات اور ویکسین سے انکار مہم کے راستے کی بڑی رکاوٹیں رہی ہیں، اس لیے والدین کو مستند ذرائع سے معلومات لینے کی تلقین کی گئی ہے۔ مہم کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ 97 اضلاع میں کوئی بچہ قطرے سے محروم نہ رہے — یہی وہ قدم ہے جو پاکستان کو پولیو سے پاک کرنے کی جانب لے جا سکتا ہے۔
ذرائع: ڈان، عرب نیوز پاکستان، ہم نیوز، ایکسپریس ٹریبیون

