لاہور، 2 نومبر 2026ء — پیر کی صبح لاہور کی فضا ایک بار پھر خطرناک حد تک آلودہ ہو گئی، جب فضائی معیار کا اشاریہ (اے کیو آئی) 535 تک جا پہنچا۔ فضا میں باریک ذرات PM2.5 کی مقدار 343 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی، جو صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ سمجھی جاتی ہے۔
اے کیو آئی کی پیمائش کرنے والے عالمی پلیٹ فارم IQAir کے مطابق صبح آٹھ بجے لاہور خطرناک درجے میں تھا۔ PM2.5 وہ نہایت باریک ذرات ہیں جو پھیپھڑوں میں گہرائی تک داخل ہو کر خون میں شامل ہو سکتے ہیں، اس لیے اس درجے کی آلودگی بچوں، بزرگوں اور سانس یا دل کے مریضوں کے لیے خاص طور پر خطرناک قرار دی جاتی ہے۔ صبح سویرے ہی فضا کا معیار تیزی سے بگڑا اور گھنٹہ وار ریڈنگز بھی خطرناک حد میں داخل ہو گئیں۔
یہ صورتحال صرف لاہور تک محدود نہیں رہی۔ IQAir کی پیر کی صبح کی درجہ بندی میں ملک کے چھ آلودہ ترین شہروں میں سے پانچ کا تعلق پنجاب سے تھا۔ گوجرانوالہ 606 کے ساتھ سرفہرست رہا، اس کے بعد لاہور 509، فیصل آباد اور ملتان 310، 310 اور سیالکوٹ 260 پر رہے، جبکہ پشاور 216 کے ساتھ چھٹے نمبر پر تھا۔ بعد کی گھنٹہ وار اپ ڈیٹس میں گوجرانوالہ کی ریڈنگ 675 اور لاہور کی 535 تک پہنچ گئی، جو صورتحال کے تیزی سے بدلنے کی علامت ہے۔ سماء ٹیلی وژن کے مطابق یہ رواں سیزن کی اب تک کی بدترین صورتحال ہے۔
آلودگی میں اس شدت کی ایک بڑی وجہ فصلوں کی باقیات جلانا بتائی جا رہی ہے۔ ماحولیاتی نگرانی کی ویب سائٹ ہماری ہوا کے تجزیے کے مطابق ناسا کی سیٹلائٹس نے یکم سے 29 اکتوبر کے دوران پاکستانی پنجاب میں آگ کے 13,241 مقامات کی نشاندہی کی، جبکہ بھارتی پنجاب میں یہ تعداد 3,158 تھی — یعنی پاکستانی پنجاب میں آگ کے مقامات 4.2 گنا زیادہ تھے۔ ان میں سے تقریباً 92 فیصد زرعی زمین پر تھے اور غالباً فصلوں کی باقیات جلانے سے متعلق تھے۔ اکتوبر کے آخری سات دنوں میں ہی 6,655 مقامات سامنے آئے، اور 29 اکتوبر کو سب سے زیادہ 1,327 مقامات ریکارڈ ہوئے۔ اوکاڑہ میں سب سے زیادہ 2,144، گوجرانوالہ میں 1,011 اور ننکانہ صاحب میں 1,003 مقامات پائے گئے۔ ان دھوئیں کے ساتھ گاڑیوں اور صنعتوں کا اخراج بھی فضائی بوجھ میں اضافہ کر رہا ہے، جبکہ کمزور ہوائیں اور درجہ حرارت کی الٹی تہہ آلودگی کو زمین کے قریب ہی پھنسا دیتی ہے۔
یہ بگاڑ اس وقت سامنے آیا ہے جب اکتوبر کے بارے میں حکومتی دعوے پر بھی سوال اٹھے ہیں۔ پنجاب حکومت نے اکتوبر 2026 کو پانچ سال کا صاف ترین اکتوبر قرار دیا تھا، لیکن پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو (PAQI) کے تجزیے کے مطابق 26 نگرانی مراکز پر PM2.5 کی اوسط گزشتہ سال کے مقابلے میں 27 فیصد کم ضرور ہوئی، مگر موسمی حالات کو مدنظر رکھنے کے بعد یہ بہتری صرف چار فیصد رہ جاتی ہے۔ PAQI کے مطابق اکتوبر کے ہر روز PM2.5 کی مقدار قومی یومیہ حد سے زیادہ رہی۔ ادارے نے یکم نومبر کی پیشگوئی میں کہا ہے کہ 4 نومبر تک PM2.5 کی مقدار 149 مائیکروگرام تک بڑھ سکتی ہے، جو اکتوبر کی اوسط سے تقریباً 49 فیصد زیادہ ہوگی۔ دوسری جانب پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے ڈان کو بتائے گئے اعداد کے مطابق اکتوبر 2026 میں لاہور کا اوسط امریکی اے کیو آئی 180.5 رہا، جو 2025 میں 204.6، 2024 میں 213 اور 2022 و 2023 میں تقریباً 193 سے 195 تھا۔ ان اعداد کے مطابق اکتوبر 2026 ان پانچ برسوں میں واحد سال تھا جس میں اے کیو آئی 300 سے اوپر نہیں گیا اور سب سے زیادہ ریڈنگ 31 اکتوبر کو 262 رہی۔
ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں اور باہر جاتے وقت ماسک کا استعمال کریں۔ فضائی آلودگی کی یہ لہر ایک بار پھر یہ سوال اٹھا رہی ہے کہ فصلوں کی باقیات جلانے اور دیگر ذرائع پر قابو پانے کے لیے اقدامات کتنے مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔
ذرائع: ڈان، پروپاکستانی، سماء ٹی وی

