اسلام آباد، 7 نومبر 2026ء — دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو واشنگٹن میں ہونے والی کسی بھی سیاسی تبدیلی سے متاثر نہیں ہونے دے گا اور دونوں ملکوں کے درمیان تعاون تمام اہم شعبوں میں جاری رہے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے جمعے کو اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان نے ہر امریکی حکومت کے ساتھ بہترین تعلقات رکھے ہیں اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ ان کا یہ بیان امریکہ میں وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی کامیابی کے بعد سامنے آیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ امریکہ تجارت، سرمایہ کاری، سلامتی، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور معدنیات سمیت کئی اہم شعبوں میں پاکستان کا اہم شراکت دار ہے اور اسلام آباد دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔
بریفنگ میں امریکہ کی جانب سے افغان شہریوں کو پاکستان کے راستے بے دخل کرنے کے منصوبے پر بھی بات ہوئی۔ ترجمان نے بتایا کہ یہ معاملہ زیر غور ہے اور متعلقہ اداروں سے مشاورت جاری ہے، تاہم ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس معاملے میں باہمی طور پر قابل قبول حل نکل آئے گا۔
امریکی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ڈیڑھ سو سے زائد افغان شہریوں کو امریکہ سے نکال کر پہلے پاکستان اور پھر افغانستان بھیجنا چاہتی ہے۔ نیویارک کی ایک وفاقی عدالت نے تین نومبر کو اس منصوبے پر عارضی پابندی لگاتے ہوئے بے دخلیوں کو ہفتہ، سات نومبر تک روک دیا تھا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی بات کی اور کہا کہ پاکستان خطے کے تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو اہم سمجھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے میں سہولت فراہم کی ہے اور دونوں ملک تقریباً 47 برس بعد براہ راست مذاکرات کی میز پر آئے، جس کے نتیجے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔
بریفنگ میں ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان بابا گرو نانک دیو جی کے 557 ویں یوم پیدائش کے موقع پر سکھ یاتریوں کے استقبال کے لیے تیار ہے، تاہم بھارت نے کرتارپور راہداری کے ذریعے یاتریوں کی آمد و رفت معطل کر رکھی ہے۔
ترجمان نے تصدیق کی کہ پاکستان کو 20 سے 22 نومبر تک نئی دہلی میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے سولائزیشن فورم میں شرکت کی دعوت ملی ہے، تاہم اس پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
ذرائع: ڈان، ایکسپریس ٹریبیون، اے پی پی / اردو پوائنٹ، خا مہ پریس

