مرکزی مواد پر جائیں
ہفتہ، 7 نومبر 2026

روزنامہ فرض کراچی

کراچی، پاکستان
اہم خبریں
پاکستان

چار ماہ میں تجارتی خسارہ 14.63 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، برآمدات میں سست روی

Container port in Karachi, Pakistan

اسلام آباد، 7 نومبر 2026ء — پاکستان کا تجارتی خسارہ مالی سال 2026-27 کے پہلے چار ماہ میں تقریباً 16 فیصد بڑھ کر 14 ارب 63 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، کیونکہ درآمدات میں اضافے کی رفتار برآمدات سے کہیں زیادہ رہی۔ پاکستان بیورو شماریات کے جمعے کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا اکتوبر کے دوران برآمدات 11 ارب 34 کروڑ ڈالر رہیں، جبکہ درآمدات 25 ارب 96 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں۔

برآمدات میں سال بہ سال 8.52 فیصد اضافہ ہوا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 10 ارب 45 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں بہتر ہے، لیکن درآمدات میں 12.59 فیصد اضافہ ہوا — گزشتہ سال 23 ارب 6 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں۔ یوں تجارتی خسارہ گزشتہ سال کے 12 ارب 62 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 14 ارب 63 کروڑ ڈالر ہو گیا، جو ملکی معیشت کے لیے ایک تشویشناک علامت ہے۔

صرف اکتوبر کے مہینے میں صورتحال مزید خراب رہی۔ اکتوبر میں برآمدات محض 2.84 فیصد بڑھ کر 2 ارب 93 کروڑ ڈالر ہوئیں، جبکہ درآمدات 11.81 فیصد بڑھ کر 6 ارب 81 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اس طرح ماہانہ خسارہ 19.7 فیصد بڑھ کر 3 ارب 88 کروڑ ڈالر ہو گیا، جو گزشتہ سال اکتوبر کے 3 ارب 24 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ ستمبر کے مقابلے میں بھی خسارہ 10.3 فیصد بڑھا، جبکہ برآمدات میں ماہ بہ ماہ صرف 0.21 فیصد اضافہ ہوا۔

برآمدات میں سست روی کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ ہے، جس کے باعث مشرقِ وسطیٰ اور یورپی منڈیوں میں پاکستانی برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔ آبنائے ہرمز میں خلل کے باعث جہازرانی کے اخراجات بڑھ گئے ہیں اور سپلائی چین متاثر ہوئی ہے۔ افغانستان کی منڈی بھی اکتوبر 2025 سے بند ہے، جو ڈیڑھ ارب ڈالر سے زائد کی برآمدی منڈی تھی۔ برآمد کنندگان بجلی کی بلند قیمتوں اور کاروبار کی بڑھتی ہوئی لاگت کی شکایت کر رہے ہیں، اور اسٹیٹ بینک نے بھی درآمدات میں تیزی پر خبردار کیا ہے۔

گزشتہ مالی سال 2025-26 میں بھی برآمدات کا ہدف پورا نہیں ہوا تھا۔ مالی سال 26 میں برآمدات 5.97 فیصد کم ہو کر 30 ارب 13 کروڑ ڈالر رہیں، جو 32 ارب 4 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں کم ہیں، اور سالانہ ہدف سے 4 ارب 87 کروڑ ڈالر پیچھے رہیں۔ اسی سال تجارتی خسارہ 21.57 فیصد بڑھ کر 39 ارب 47 کروڑ ڈالر ہو گیا تھا۔ منصوبہ بندی کی وزارت نے برآمدات کو 2030 تک 60 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا تھا، جسے اب 2035 تک 100 ارب ڈالر کر دیا گیا ہے۔

خدمات کے شعبے میں بھی خسارہ بڑھ رہا ہے — ستمبر 2026 میں خدمات کا تجارتی خسارہ 84.3 فیصد بڑھ کر 28 کروڑ 27 لاکھ ڈالر ہو گیا۔ وزارتِ خزانہ کے حکام چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمد کنندگان کو سہولتیں دینے کے اقدامات پر کام کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق توانائی کی قیمتیں اور مہنگا قرض برآمدی مسابقت کو کمزور کر رہے ہیں، اور خسارے پر قابو پانے کے لیے برآمدی بنیاد کو وسیع کرنا ناگزیر ہے۔

ذرائع: ڈان، دی نیوز، بزنس ریکارڈر، دی نیشن، پاکستان بیورو شماریات