کراچی — جمعہ 6 نومبر 2026: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل تیسرے ہفتے اضافہ ہوا ہے اور وہ 30 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں 21 ارب 56 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ مرکزی بینک نے جمعرات کو جاری کردہ اپنے ہفتہ وار بیان میں بتایا کہ اس کے ذخائر میں ہفتے کے دوران 3 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔
اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کے مجموعی مائع زرمبادلہ ذخائر بھی بڑھ کر 26 ارب 86 کروڑ ڈالر ہو گئے، جن میں ایک ہفتے میں 11 کروڑ ڈالر سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کمرشل بینکوں کے پاس موجود خالص ذخائر 7 کروڑ 10 لاکھ ڈالر بڑھ کر 5 ارب 30 کروڑ ڈالر رہے۔
اس سے قبل 23 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر بڑھ کر 21 ارب 52 کروڑ ڈالر ہوئے تھے، جبکہ مجموعی ذخائر 26 ارب 75 کروڑ ڈالر تھے۔ یوں مرکزی بینک کے ذخائر میں لگاتار تین ہفتوں سے اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔
مرکزی بینک کے مطابق بیرون ملک سے آنے والی ترسیلات زر میں بہتری اور انٹربینک مارکیٹ سے ڈالر کی مسلسل خریداری نے ذخائر کو سہارا دیا۔ اسٹیٹ بینک نے جولائی میں انٹربینک مارکیٹ سے 86 کروڑ 30 لاکھ ڈالر خریدے تھے، جو جون میں 84 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تھے۔ اگست 2025 سے جولائی 2026 تک بارہ مہینوں میں مرکزی بینک کی مجموعی خریداری 8 ارب 78 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی۔ یہ خریداری ذخائر بڑھانے اور بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کی گئی۔
اسٹیٹ بینک کو توقع ہے کہ اس کے ذخائر دسمبر 2026 کے اختتام تک 23 ارب ڈالر اور جون 2027 تک 25 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔
یہ اعداد و شمار ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بدھ کے روز بتایا تھا کہ سعودی عرب نے پاکستان کے لیے اپنی 3 ارب ڈالر کی ڈپازٹ سہولت میں توسیع کر دی ہے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا بورڈ دسمبر میں قرض پروگرام کی اگلی 1.2 ارب ڈالر کی قسط کی منظوری کے لیے اجلاس کرے گا۔ وزیر خزانہ نے یورو بانڈز، یوآن میں جاری ہونے والے پانڈا بانڈز اور روپے سے منسلک آلات کے تازہ اجرا کی منصوبہ بندی کا بھی ذکر کیا تھا، جبکہ اس سال بیرونی قرض میں 4 ارب ڈالر کمی کا ہدف رکھا گیا ہے۔
وزارت خزانہ کی ماہانہ معاشی جائزہ رپورٹ کے مطابق ذخائر کی مضبوط پوزیشن اور مالی وسائل تک بہتر رسائی سے پاکستان کی بیرونی ذمہ داریاں پوری کرنے اور معاشی سرگرمیاں جاری رکھنے کی صلاحیت بہتر ہوئی ہے، جبکہ خدمات کی برآمدات اور ترسیلات زر میں اضافے نے زرمبادلہ کی دستیابی بڑھائی اور توانائی کی بلند قیمتوں کے باوجود کرنٹ اکاؤنٹ کو سہارا دیا۔
ذرائع: اسٹیٹ بینک آف پاکستان، دی نیوز، ایکسپریس ٹریبیون، پرو پاکستانی۔

