کراچی: شہر میں اکتوبر کی گرمی نے شہریوں کو پریشان کر دیا ہے۔ منگل کے روز درجہ حرارت 38.7 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب 43 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جس سے گرمی کی شدت مزید بڑھ گئی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق سمندری ہواؤں کی شدت میں کمی کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ ہوا ہے۔ منگل کے روز درجہ حرارت گزشتہ روز کے مقابلے میں تقریباً ڈھائی ڈگری زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ دوپہر کے وقت درجہ حرارت 38 ڈگری سے تجاوز کر گیا تھا جبکہ بلوچستان کی جانب سے چلنے والی شمال مغربی ہواؤں نے بھی موسم پر اثر ڈالا۔
محکمہ موسمیات کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ اکتوبر کراچی میں عام طور پر گرم مہینہ ہوتا ہے اور اسے شہر کی “دوسری گرمی” بھی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بالائی فضا میں ہائی پریشر کے نظام کے باعث ہوائیں کمزور ہوئی ہیں جس سے درجہ حرارت بڑھ گیا ہے۔ عہدیدار نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو درجہ حرارت 40 ڈگری تک بھی جا سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے ارلی وارننگ سینٹر نے بدھ کے روز بھی گرم دن کی پیشگوئی کی ہے جس میں درجہ حرارت 38 ڈگری تک جانے کا امکان ہے۔ آئندہ دنوں میں بھی درجہ حرارت 37 سے 39 ڈگری کے درمیان رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
گرمی کی شدت نے خاص طور پر دوپہر کے وقت باہر کام کرنے والے افراد، مزدوروں اور سفر کرنے والوں کو متاثر کیا ہے۔ طبی ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پانی کا زیادہ استعمال کریں، دوپہر کے وقت بلا ضرورت دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں اور بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کا خاص خیال رکھیں۔
صوبہ سندھ کے دیگر علاقوں میں بھی گرمی کی شدت برقرار ہے۔ مٹھی میں درجہ حرارت 41 ڈگری جبکہ شہید بینظیر آباد میں 40 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔ سندھ کے بیشتر علاقوں میں گرم اور خشک موسم رہنے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اکتوبر کے آخری حصے میں موسم میں بتدریج بہتری آنے کا امکان ہے، تاہم موجودہ موسمی نظام کے باعث شدید گرمی کا دور کچھ دن اور جاری رہ سکتا ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ موسم کی تازہ صورتحال سے باخبر رہیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
ذرائع: ڈان، ڈیلی پاکستان

