مرکزی مواد پر جائیں
اتوار، 13 ستمبر 2026

روزنامہ فرض کراچی

کراچی، پاکستان
اہم خبریں
پاکستان، کراچی

جبران ناصر کا میر رضا عدالتی کمیشن کے ٹی او آرز جاری کرنے کا مطالبہ

جبران ناصر کا میر رضا عدالتی کمیشن کے ٹی او آرز جاری کرنے کا مطالبہ — نمائشی تصویر

تصویر: AI سے تیار کردہ نمائشی تصویر · Farz Media · Farz Media AI illustration

کراچی میں نوجوان کاروباری شخصیت میر رضا علی کی ہلاکت کے معاملے پر ان کے وکیل جبران ناصر نے سندھ حکومت سے عدالتی کمیشن کے قیام کا نوٹیفکیشن اور اس کے ضابطۂ کار، یعنی ٹی او آرز، فوری طور پر جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ناصر کے مطابق متاثرہ خاندان کو کمیشن کے دائرۂ اختیار اور تحقیقات کے طریقۂ کار سے متعلق سرکاری دستاویزات فراہم نہیں کی گئیں۔

24 اگست 2026 کو کراچی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جبران ناصر نے کہا کہ خاندان کو سندھ حکومت کی جانب سے کمیشن بنانے کے فیصلے کا علم ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیشن کے سربراہ کے طور پر سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال کے نام کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم کمیشن کی ذمہ داریوں، سوالات اور اختیارات سے متعلق تفصیلات خاندان کے ساتھ شیئر نہیں کی گئیں۔

وکیل نے کہا کہ خاندان گزشتہ 24 گھنٹوں سے کمیشن کا نوٹیفکیشن اور ٹی او آرز مانگ رہا ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ عدالتی فورم کن نکات کا جائزہ لے گا اور اس کی سفارشات کی قانونی حیثیت کیا ہو گی۔ خاندان پہلے ہی موجودہ تفتیش کے طریقۂ کار پر تحفظات کا اظہار کر چکا ہے اور ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا مطالبہ بھی کر رہا ہے۔

سندھ حکومت کی جانب سے تشکیل دیے گئے کمیشن کا بنیادی مقصد میر رضا علی کی موت کے حالات و واقعات کا جائزہ لینا، یہ دیکھنا ہے کہ پولیس تفتیش قانون کے مطابق اور غیر جانب دارانہ انداز میں ہوئی یا نہیں، اور کسی پولیس یا طبی افسر کی غفلت، فرائض سے کوتاہی، شواہد چھپانے یا ان میں ردوبدل کے معاملے کی نشاندہی کرنا ہے۔

بعد ازاں عدالتی کمیشن نے کارروائی شروع کرتے ہوئے میر رضا کے اہل خانہ، جبران ناصر اور سندھ حکومت کے فوکل پرسن کو نوٹس جاری کیے۔ کمیشن نے واضح کیا کہ وہ دستیاب ریکارڈ، طبی شواہد اور تفتیشی عمل کا جائزہ لے گا، جبکہ خاندان نے پولیس کی ابتدائی کارروائی اور شواہد سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔

اس معاملے میں سندھ ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا گیا ہے، جہاں خاندان نے کمیشن کی تشکیل، پولیس تفتیش اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے مطالبے سے متعلق اپنے اعتراضات پیش کیے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ٹی او آرز کا اجرا اس لیے اہم ہے کہ اس سے کمیشن کی حدود، تحقیقات کے سوالات اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داریاں واضح ہوتی ہیں۔