مرکزی مواد پر جائیں
جمعہ، 11 ستمبر 2026

روزنامہ فرض کراچی

کراچی، پاکستان
اہم خبریں
پاکستان، کراچی

میر رضا علی کیس: وزیراعلیٰ سندھ کو بھیجے گئے 24 سوالات کے جواب نہیں ملے، جبران ناصر

میر رضا علی کیس: وزیراعلیٰ سندھ کو بھیجے گئے 24 سوالات کے جواب نہیں ملے، جبران ناصر — نمائشی تصویر

تصویر: AI سے تیار کردہ نمائشی تصویر · Farz Media · Farz Media AI illustration

کراچی: میر رضا علی قتل کیس میں مقتول کے اہل خانہ کے وکیل جبران ناصر نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کو بھیجے گئے خط میں 24 سوالات اٹھائے گئے تھے، تاہم اب تک ان میں سے کسی سوال کا جواب موصول نہیں ہوا۔

جبران ناصر نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی جج کی قابلیت پر سوال نہیں اٹھا رہے، لیکن اگر معاملہ صوبائی اداروں کی استعداد سے باہر ہے یا تحقیقات کے لیے وہی پولیس ٹیم برقرار رہتی ہے جو ابتدائی دنوں میں پیش رفت نہیں کر سکی، تو خاندان کے تحفظات برقرار رہیں گے۔

وکیل کے مطابق میر رضا علی کیس میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل اور سفید آلٹو گاڑی کا تاحال سراغ نہیں لگایا جا سکا۔ انہوں نے تفتیشی طریقہ کار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کیمروں کے ذریعے جرمانے بھیجے جاتے ہیں، مگر اس کیس میں دستیاب کیمرا ٹیکنالوجی سے مؤثر مدد نہیں لی جا رہی۔

تحقیقات پر خاندان کے تحفظات

میر رضا علی کے اہل خانہ پہلے بھی تحقیقات کے طریقہ کار اور ابتدائی پولیس مؤقف پر تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔ خاندان کی جانب سے وزیراعلیٰ سندھ کو خط بھیجے جانے کے بعد صوبائی حکومت نے معاملے کی غیر جانب دارانہ اور شفاف جانچ کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کا اعلان کیا تھا۔

بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم کمیشن نے کارروائی شروع کی اور خاندان، پولیس اہلکاروں، میڈیکو لیگل افسر اور دیگر متعلقہ افراد کو طلب کیا۔ کمیشن کو واقعے کے حالات، تفتیش میں ممکنہ کوتاہی اور مزید فرانزک یا قانونی کارروائی کی ضرورت کا جائزہ لینا ہے۔

جبران ناصر کا کہنا ہے کہ خاندان کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ میر رضا علی کی موت کے تمام پہلوؤں کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار افراد کا تعین کیا جائے۔ ان کے مطابق 24 سوالات کے جوابات نہ ملنے سے خاندان کے خدشات دور نہیں ہوئے۔

میر رضا علی 28 جولائی 2026 کو کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس سے لاپتا ہوئے تھے، جبکہ اگلے روز ان کی گولیوں سے چھلنی لاش گلستانِ جوہر میں یونیورسٹی روڈ کے قریب جھاڑیوں سے ملی تھی۔ کیس کی حتمی ذمہ داری اور موت کے حالات کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ہو سکے گا۔