مرکزی مواد پر جائیں
منگل، 8 ستمبر 2026

روزنامہ فرض کراچی

کراچی، پاکستان
اہم خبریں
پاکستان، کراچی

یونیورسٹی روڈ کو 15 ستمبر تک قابلِ آمدورفت بنانے کا نیا ہدف

یونیورسٹی روڈ کو 15 ستمبر تک قابلِ آمدورفت بنانے کا نیا ہدف — نمائشی تصویر

تصویر: AI سے تیار کردہ نمائشی تصویر · Farz Media · Farz Media AI illustration

کراچی: سندھ حکومت نے ریڈ لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کے باعث طویل عرصے سے متاثرہ یونیورسٹی روڈ کو 15 ستمبر 2026 تک مکمل طور پر قابلِ آمدورفت بنانے کا نیا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ اعلان سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے 23 اگست کو منصوبے کے تعمیراتی مقام کے دورے کے دوران کیا۔

شرجیل میمن کے مطابق یونیورسٹی روڈ کے مختلف حصوں میں سڑک کی کارپٹنگ مکمل کی جا چکی ہے، جبکہ باقی مقامات پر کام تیز کیا جا رہا ہے تاکہ ٹریفک کی روانی بحال ہو سکے۔ وزیر کو ریڈ لائن کے مختلف حصوں، سڑکوں اور پلوں کی تعمیر سے متعلق پیش رفت پر بریفنگ بھی دی گئی۔ ([dawn.com](https://www.dawn.com/news/2024671?utm_source=openai))

مسافروں کے لیے ہدف، منصوبے کی تکمیل نہیں

نئے اعلان میں یونیورسٹی روڈ کو موٹر ایبل بنانے کی بات کی گئی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ عام ٹریفک کے لیے سڑک کو بہتر حالت میں کھولا جائے گا۔ یہ تاریخ ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے کی مکمل تکمیل کی آخری تاریخ نہیں ہے۔ ریڈ لائن منصوبہ پہلے ہی متعدد تاخیر کا شکار ہے اور اس کی مجموعی تکمیل کا ہدف جون 2027 تک بڑھایا جا چکا ہے۔

یونیورسٹی روڈ پر تعمیراتی سرگرمیوں کے باعث حسن اسکوائر، نیپا چورنگی اور اطراف کے علاقوں میں ٹریفک جام، متبادل راستوں پر دباؤ اور کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ شہریوں کے لیے مسلسل مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ اس سڑک سے روزانہ طلبہ، ملازمین، مریضوں اور دیگر مسافروں کی بڑی تعداد گزرتی ہے، اس لیے سڑک کی بحالی کراچی کے شہری نظام کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔ ([tribune.com.pk](https://tribune.com.pk/story/2624863/red-line-rolls-on-university-road-crawls?amp=1&utm_source=openai))

بار بار تبدیل ہونے والی تاریخیں

ریڈ لائن منصوبہ 2022 میں شروع کیا گیا تھا اور اسے ابتدائی طور پر 2024 میں مکمل ہونا تھا۔ بعد ازاں تکمیل کی تاریخ میں توسیع ہوتی رہی۔ اپریل 2026 میں سندھ حکومت نے یونیورسٹی روڈ کی بحالی کے لیے 90 دن کا الگ ہدف بھی دیا تھا، جبکہ مئی میں صوبائی کابینہ نے سڑک کے مختلف حصوں اور متعلقہ ڈھانچوں کی تکمیل کے لیے بھی 90 روزہ مدت کی منظوری دی تھی۔

اس پس منظر میں 15 ستمبر کا نیا ہدف شہریوں کے لیے فوری ٹریفک بحالی کی امید پیدا کرتا ہے، تاہم ماضی کی تاخیر کے باعث اس پر عمل درآمد حکام کے لیے ایک اہم امتحان ہوگا۔ شہریوں کو حتمی سہولت اسی وقت مل سکے گی جب سڑک کی مرمت، نکاسیٔ آب، ٹریفک انتظام اور ریڈ لائن کی تعمیر ایک مربوط منصوبے کے تحت مکمل ہوں گے۔ ([tribune.com.pk](https://tribune.com.pk/story/2609306/sindh-sets-90-day-deadline-for-karachi-university-road-brt-project-approves-off-budget-funding-for?utm_source=openai))