مرکزی مواد پر جائیں
ہفتہ، 5 ستمبر 2026

روزنامہ فرض کراچی

کراچی، پاکستان
اہم خبریں
پاکستان، کراچی

مصطفیٰ کمال کا نئے انتظامی یونٹس بنانے کا مطالبہ، کراچی کے مسائل پر سیاسی کشیدگی بڑھ گئی

مصطفیٰ کمال کا نئے انتظامی یونٹس بنانے کا مطالبہ، کراچی کے مسائل پر سیاسی کشیدگی بڑھ گئی — نمائشی تصویر

تصویر: AI سے تیار کردہ نمائشی تصویر · Farz Media · Farz Media AI illustration

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس بنانے کا مطالبہ ایک بار پھر دہرایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی، مرکزیت اور کمزور حکمرانی کے باعث موجودہ انتظامی ڈھانچا عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔

22 اگست کو کراچی ایئرپورٹ کے قریب ثانوی درجے کے اسپتال کی سنگ بنیاد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ تقریباً 26 کروڑ آبادی والے ملک کو صرف چار صوبوں کے ذریعے مؤثر انداز میں چلانا مشکل ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ نئے انتظامی یونٹس کا قیام ملک کو تقسیم کرنے کے مترادف نہیں بلکہ اختیارات اور وسائل عوام کے قریب منتقل کرنے کی کوشش ہوگی۔ ([pakistantoday.com.pk](https://www.pakistantoday.com.pk/2026/08/22/mqm-p-calls-for-creation-of-new-administrative-units))

ایم کیو ایم پاکستان اس مطالبے کو صرف کراچی تک محدود نہیں رکھ رہی۔ پارٹی کی قیادت نے ملک کی تمام 32 ڈویژنز کو بااختیار انتظامی یونٹس میں تبدیل کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ مصطفیٰ کمال کے مطابق سندھ کی سات ڈویژنز کو الگ انتظامی یونٹس بنایا جا سکتا ہے، تاکہ مقامی آبادی اپنے علاقوں کے وسائل، ترقیاتی منصوبوں اور معدنی آمدنی سے براہِ راست فائدہ اٹھا سکے۔ پارٹی نے بااختیار بلدیاتی اداروں اور آئین کے آرٹیکل 140-A پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ([dawn.com](https://www.dawn.com/news/2021851/muttahida-seeks-transformation-of-all-32-divisions-into-empowered-administrative-units))

مصطفیٰ کمال نے کراچی کی صورت حال کو اپنے مؤقف کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے پانی، شہری سہولتوں، روزگار اور صحت کے مسائل کا ذکر کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سندھ کو گزشتہ 18 برس کے دوران وفاق سے خطیر رقوم ملنے کے باوجود کراچی اور صوبے کے دیگر علاقوں میں عوامی خدمات کا معیار بہتر نہیں ہو سکا۔ 31 اگست کو اورنگی ٹاؤن کے جلسے میں انہوں نے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کو غیر آئینی یا غداری قرار دینے کی مخالفت کی اور کہا کہ صوبے بنانے کے لیے آئین میں موجود طریقہ کار پر بحث کی جا سکتی ہے۔ ([pakistantoday.com.pk](https://www.pakistantoday.com.pk/2026/08/22/mqm-p-calls-for-creation-of-new-administrative-units))

اس مطالبے پر پیپلز پارٹی نے سخت ردعمل دیا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کے مطابق نئے صوبے یا انتظامی تبدیلی کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد اور آئینی طریقہ کار ضروری ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے سندھ کی تقسیم کی مخالفت کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کی مہم کو سیاسی طور پر محرک قرار دیا ہے۔ یوں کراچی کے اختیارات، بلدیاتی خودمختاری اور سندھ کے انتظامی مستقبل کا معاملہ ایک مرتبہ پھر صوبائی سیاست کا مرکزی موضوع بن گیا ہے۔ ([tribune.com.pk](https://tribune.com.pk/story/2625253/mustafa-kamal-calls-for-creation-of-new-administrative-units-says-existing-system-paralysed?amp=1))