کراچی: شہر میں آٹے کی قیمت میں اضافے اور گندم کی دستیابی پر ایک بار پھر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے دعویٰ کیا ہے کہ کراچی میں چکی کا آٹا سرکاری نرخ 145 روپے فی کلو کے بجائے بعض مقامات پر 180 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ اس حساب سے 10 کلو آٹے کا تھیلا 1,800 روپے تک پہنچ گیا ہے۔
حلیم عادل شیخ نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گندم کے سرکاری ذخائر، خریداری اور تقسیم کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔ ان کے مطابق صوبے میں 2025-26 کے سیزن کے دوران گندم کی پیداوار بہتر رہی، حکومت نے 3,500 روپے فی 40 کلو سپورٹ پرائس مقرر کی اور 10 لاکھ ٹن خریداری کا ہدف رکھا، تاہم نئی فصل آنے کے چند ماہ بعد ہی آٹے کی قیمتوں میں اضافہ تشویش ناک ہے۔
قیمتوں میں فرق اور سرکاری مؤقف
دستیاب مارکیٹ رپورٹس کے مطابق کراچی میں آٹے کی قیمتیں مختلف اقسام اور علاقوں کے لحاظ سے 150 سے 180 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہیں۔ حساس قیمتوں کے اعداد و شمار پر مبنی ایک رپورٹ میں اگست کے تیسرے ہفتے کے دوران 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2,200 سے 3,133 روپے تک بتائی گئی، جبکہ باریک آٹے کی قیمت بھی بلند ہوئی۔
اس کے برعکس وفاقی حکومت نے جولائی میں ملک میں گندم کی قلت نہ ہونے کا مؤقف اختیار کیا تھا اور ذخیرہ اندوزی و ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائی کی ہدایت دی تھی۔ سندھ میں انتظامیہ نے بھی آٹے کے نرخ کم کرنے اور گندم کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے فلور ملز سے رابطے کیے، لیکن بازار میں سرکاری اور عملی نرخوں کے درمیان فرق برقرار رہنے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔
گندم کے ذخائر پر اختلاف
سندھ حکومت کے مطابق صوبے کی گندم کی دستیابی اور کھپت کے درمیان توازن ایک اہم مسئلہ ہے۔ حالیہ رپورٹس میں بتایا گیا کہ صوبائی ذخائر میں کمی آئی ہے اور فلور ملز کو زیادہ عرصے کے لیے گندم ذخیرہ کرنے کی اجازت دینے پر بھی غور کیا گیا۔ حکام نے قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے اضافی گندم کی فراہمی اور درآمدی اقدامات کا عندیہ دیا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے گندم کی مبینہ قلت، 500,000 ٹن درآمد کی ضرورت اور سپلائی چین میں تقریباً 610,000 ٹن گندم کے حساب سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔ یہ اعداد و شمار سیاسی دعووں کا حصہ ہیں اور ان کی آزادانہ سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔
آٹے کی قیمت میں مسلسل اضافہ کراچی کے کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے براہ راست دباؤ کا باعث بن رہا ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت سرکاری نرخ پر آٹے کی دستیابی یقینی بنائے، ذخیرہ اندوزی کی تحقیقات کرے اور گندم کے صوبائی و ضلعی سطح کے اسٹاک کی باقاعدہ تفصیل جاری کرے۔

