مرکزی مواد پر جائیں
پیر، 7 ستمبر 2026

روزنامہ فرض کراچی

کراچی، پاکستان
اہم خبریں
پاکستان، کراچی

سندھ کابینہ کی منظوری کے بعد میر رضا علی کیس کی عدالتی تحقیقات شروع

سندھ کابینہ کی منظوری کے بعد میر رضا علی کیس کی عدالتی تحقیقات شروع — نمائشی تصویر

تصویر: AI سے تیار کردہ نمائشی تصویر · Farz Media · Farz Media AI illustration

کراچی: سندھ کابینہ کی منظوری کے بعد کراچی کے نوجوان کاروباری شخصیت میر رضا علی کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن قائم کردیا گیا ہے۔ سندھ حکومت نے 23 اگست 2026 کو سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے کمیشن تشکیل دینے کی درخواست کی تھی، جس کے بعد عدالت عالیہ نے جسٹس عمر سیال کو کمیشن کا سربراہ نامزد کیا۔

میر رضا علی 28 جولائی کو لاپتا ہوئے تھے اور اگلے روز ان کی لاش گلستانِ جوہر کے علاقے سے ملی تھی۔ اہل خانہ کا مؤقف ہے کہ انہیں اغوا، تشدد اور قتل کیا گیا، جبکہ پولیس کی ابتدائی تفتیش میں خودکشی کا امکان بھی زیرِ غور رہا۔ بعد ازاں دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سامنے آنے والی چوٹوں کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعہ شامل کی گئی۔

کمیشن کے دائرۂ کار میں کیا شامل ہے؟

عدالتی کمیشن اس امر کا جائزہ لے گا کہ مقدمے کی تفتیش قانون کے مطابق، غیر جانب دارانہ اور شفاف انداز میں ہوئی یا نہیں۔ کمیشن کو شواہد، نظرانداز کیے گئے تفتیشی پہلوؤں اور مزید فرانزک کارروائی کی ضرورت کا جائزہ لینے کا اختیار دیا گیا ہے۔

کمیشن یہ بھی دیکھے گا کہ کسی پولیس افسر، میڈیکو لیگل افسر یا دوسرے سرکاری اہلکار سے غفلت، پیشہ ورانہ بدعنوانی، شواہد چھپانے یا کسی غیر قانونی اقدام کا ارتکاب تو نہیں ہوا۔ اسے گواہوں کو طلب کرنے، حلف پر بیان لینے اور سرکاری ریکارڈ طلب کرنے کے لیے سول عدالت جیسے اختیارات حاصل ہیں۔ حکومت کے مطابق رپورٹ کمیشن کی تشکیل کے 30 دن کے اندر پیش کی جانی تھی، تاہم مکمل اور منصفانہ تحقیقات کے لیے مدت میں توسیع بھی ممکن ہے۔

اہل خانہ کی درخواست اور عدالتی پیش رفت

میر رضا کے اہل خانہ نے عدالتی کمیشن کے بجائے ایک آزاد مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا مطالبہ کیا تھا اور اس سلسلے میں سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ عدالت نے 2 ستمبر 2026 کو درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینا حکومت کا اختیار ہے، جبکہ عدالت جاری تفتیش کی نگران یا تفتیش کار کا کردار ادا نہیں کرسکتی۔

عدالت نے تاہم اہل خانہ کو قانون کے تحت دستیاب دیگر راستے اختیار کرنے کی اجازت دی۔ ادھر کمیشن نے کارروائی شروع کرتے ہوئے ابتدائی پوسٹ مارٹم کرنے والے میڈیکو لیگل افسر، پولیس حکام اور متعلقہ افراد کو طلب کیا ہے۔ مقدمے کی تفتیش بھی نئے تحقیقاتی افسران کے سپرد کی جاچکی ہے، جبکہ پولیس حکام کے مطابق شواہد، طبی رپورٹس اور ڈیجیٹل مواد کا دوبارہ جائزہ لیا جارہا ہے۔