کراچی: میر رضا علی کی ہلاکت کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن نے تفتیشی ریکارڈ مبینہ طور پر روکنے کے معاملے پر تفتیشی ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی امیر فاروقی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کرلی۔ کمیشن نے فریروز آباد اور گلستانِ جوہر تھانوں کے روزنامچے سیل کرکے آئندہ کارروائی میں پیش کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم یک رکنی کمیشن نے کارروائی کے دوران مشاہدہ کیا کہ بعض ریکارڈ اس کے سامنے دانستہ طور پر پیش نہیں کیے گئے۔ کمیشن نے میر رضا کے دوست رازق کے بیان کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ پولیس کی جانب سے پیش کیا گیا سات سطروں پر مشتمل بیان اہم معلومات سے خالی ہے۔
کارروائی کے مطابق رازق نے بتایا کہ کمرے سے ملنے والی ایک رسید سے ظاہر ہوتا ہے کہ میر رضا نے اپنی گمشدگی سے قبل شام کے وقت احمد راجا نامی شخص سے ملاقات کی تھی۔ کمیشن نے نشاندہی کی کہ یہ تفصیل پولیس ریکارڈ میں شامل نہیں کی گئی۔ سرکاری فوکل پرسن نے یقین دہانی کرائی کہ گواہوں کے ویڈیو بیانات بھی کمیشن کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔
تفتیشی طریقہ کار پر سوالات
کمیشن نے گلستانِ جوہر تھانے کے ایس ایچ او کامران قریشی سے جائے وقوعہ، سی سی ٹی وی ریکارڈ، روزنامچے اور شواہد کی منتقلی سے متعلق سوالات کیے۔ کمیشن نے دریافت کیا کہ ایس ایچ او کو سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنے کی اجازت کس نے دی اور لاش کو جائے وقوعہ سے منتقل کرتے وقت قانونی یادداشت کیوں تیار نہیں کی گئی۔
کمیشن نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ جائے وقوعہ پر پولیس سے پہلے فلاحی ادارے کے رضاکار کیسے پہنچ گئے، جبکہ پولیس نے دشوار گزار راستے کو اپنی تاخیر کی وجہ قرار دیا۔ کارروائی کے دوران جائے وقوعہ پر گھاس جلانے، مبینہ طور پر دیر سے ایک پستول کا ہولسٹر ملنے اور مختلف افسران کی وہاں موجودگی کی وجوہات بھی زیر بحث آئیں۔
- ڈی آئی جی امیر فاروقی سے ریکارڈ پیش نہ کیے جانے پر جواب طلبی۔
- فریروز آباد اور گلستانِ جوہر تھانوں کے روزنامچے سیل کرنے کی ہدایت۔
- متعدد پولیس افسران کو آئندہ سماعت پر طلب کرنے کا فیصلہ۔
میر رضا 28 جولائی کو کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس سے لاپتا ہوئے تھے، جبکہ اگلے روز ان کی لاش گلستانِ جوہر میں یونیورسٹی کے سامنے جھاڑیوں سے ملی تھی۔ پولیس نے مقدمہ درج کیا، تاہم ابتدائی تفتیش اور طبی رپورٹ کے حوالے سے خاندان نے تحفظات کا اظہار کیا۔ بعد ازاں معاملے کی تحقیقات کے لیے سندھ حکومت کی درخواست پر سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے جسٹس عمر سیال کو کمیشن کا سربراہ مقرر کیا۔
کمیشن نے 30 دن میں رپورٹ مکمل کرنے کا ہدف رکھا ہے۔ خاندان کے وکیل نے پولیس کی تفتیش اور شواہد سنبھالنے کے طریقہ کار پر اعتراضات اٹھائے ہیں، تاہم کمیشن کی حتمی رپورٹ آنے تک کسی فرد کے خلاف الزامات ثابت نہیں ہوئے۔

