مرکزی مواد پر جائیں
جمعرات، 10 ستمبر 2026

روزنامہ فرض کراچی

کراچی، پاکستان
اہم خبریں
پاکستان، کراچی

میر رضا علی قتل کیس: اہل خانہ نے جوڈیشل کمیشن کو چیلنج کیا، سندھ ہائیکورٹ نے درخواست خارج کردی

میر رضا علی قتل کیس: اہل خانہ نے جوڈیشل کمیشن کو چیلنج کیا، سندھ ہائیکورٹ نے درخواست خارج کردی — نمائشی تصویر

تصویر: AI سے تیار کردہ نمائشی تصویر · Farz Media · Farz Media AI illustration

کراچی کے کاروباری نوجوان میر رضا علی کے قتل کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کو ان کے اہل خانہ نے سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے آزاد اور کثیر ادارہ جاتی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کی درخواست کی تھی، تاہم عدالت نے یہ درخواست 2 ستمبر 2026 کو خارج کردی۔

میر رضا علی کی لاش 29 جولائی کو کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں ملی تھی۔ وہ ایک روز قبل لاپتا ہوئے تھے۔ ان کے اہل خانہ کا مؤقف ہے کہ انہیں اغوا کے بعد قتل کیا گیا، جبکہ ابتدائی مرحلے میں پولیس تفتیش میں خودکشی کے امکان کو بھی زیرِ غور لایا گیا تھا۔ بعد ازاں مقدمے میں قتل کی دفعات شامل کی گئیں اور تفتیشی عمل میں تبدیلیاں کی گئیں۔

اہل خانہ کے اعتراضات

اہل خانہ کے وکیل جبران ناصر نے جوڈیشل کمیشن کے قیام پر اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ کمیشن کی تشکیل سے قبل خاندان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ درخواست میں ایسے افسران پر مشتمل جے آئی ٹی بنانے کی استدعا کی گئی جو پہلے سے کیس کی تفتیش میں شامل نہ رہے ہوں۔ خاندان نے پولیس کی ابتدائی کارروائی، پوسٹ مارٹم سے متعلق اختلافات اور تفتیش کے مختلف مراحل پر بھی سوالات اٹھائے۔

سندھ حکومت نے اگست میں ایک رکنی جوڈیشل کمیشن قائم کیا، جس کی سربراہی سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال کر رہے ہیں۔ کمیشن کو میر رضا علی کی موت کے حالات، پولیس اور طبی حکام کی ممکنہ غفلت، دستیاب شواہد اور تفتیش میں نظرانداز کیے گئے پہلوؤں کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

عدالت کا فیصلہ اور جاری تحقیقات

سندھ ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے 2 ستمبر کو اہل خانہ کی جے آئی ٹی سے متعلق درخواست خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ ایسی ٹیم تشکیل دینا حکومت کا اختیار ہے۔ عدالت نے تفتیش کو غیر جانب دار، منصفانہ اور تیز رفتاری سے مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

جوڈیشل کمیشن نے اس دوران میڈیکو لیگل افسر، پولیس اہلکاروں، امدادی کارکنوں اور مقتول کے اہل خانہ کے بیانات ریکارڈ کیے ہیں۔ کمیشن نے مزید پولیس افسران، طبی حکام، کاروباری ساتھیوں اور دیگر گواہوں کو بھی طلب کیا ہے۔ میر رضا علی کے اہل خانہ بدستور اس مؤقف پر قائم ہیں کہ موت کے اصل محرکات سامنے لانے کے لیے تمام شواہد کا غیر جانب دارانہ جائزہ ضروری ہے۔